راہل گاندھی کا نروانے کی کتاب پر پینگوئن سے سوال
راہل گاندھی نے نروانے کی کتاب پر پینگوئن کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے سچائی واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔
کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے کی مجوزہ کتاب کے حوالے سے پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب اشاعتی ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ جنرل نروانے کی کتاب “فور اسٹارز آف ڈیسٹنی” کی اشاعت کے حقوق صرف اسی کے پاس محفوظ ہیں اور یہ کتاب تاحال شائع نہیں ہوئی۔میڈیا کی جانب سے اس بارے میں سوال کیے جانے پر راہل گاندھی نے سابق آرمی چیف کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل نروانے نے خود اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ ان کی کتاب دستیاب ہے اور قارئین کو اسے خریدنے کے لیے لنک فالو کرنے کی دعوت بھی دی تھی۔ راہل گاندھی نے اسی تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک طرف پبلشر کہہ رہا ہے کہ کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی، اور دوسری طرف مصنف خود اس کی دستیابی کا اعلان کر رہے ہیں، تو پھر دونوں بیانات میں سے ایک درست نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یا تو جنرل نروانے کی بات غلط ہے یا پینگوئن کا دعویٰ درست نہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے خیال میں ایک سابق آرمی چیف کے جھوٹ بولنے کا امکان کم ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق یہ معاملہ شفافیت کا تقاضا کرتا ہے اور عوام کو حقیقت جاننے کا حق ہے۔راہل گاندھی نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ مذکورہ کتاب آن لائن پلیٹ فارم، خصوصاً ایمیزون، پر دستیاب بتائی جا رہی ہے، جب کہ جنرل نروانے نے سنہ 2023 میں بھی سوشل میڈیا پر اپنی کتاب کی تشہیر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اصل حقیقت کیا ہے۔
کانگریس رہنما نے قیاس آرائی کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کتاب میں کچھ ایسے نکات شامل ہوں جو موجودہ حکومت یا وزیر اعظم کے لیے غیر موزوں یا باعثِ تشویش ہوں۔ ان کے مطابق عوام کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ اشاعتی ادارے کا موقف درست ہے یا سابق آرمی چیف کا بیان زیادہ قابلِ اعتبار ہے۔ اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔





