ایپسٹین انکشافات پر شاہی خاندان کی گہری تشویش
ایپسٹین کیس انکشافات پر ولیم، کیتھرین پریشان، متاثرین کی حمایت؛ اینڈریو رہائش تبدیل کرگئے
برطانیہ کے شہزادہ ولیم اور شہزادی کیتھرین نے امریکی مالیاتی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق حالیہ انکشافات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کینسنگٹن پیلس کے ترجمان کے مطابق پرنس اور پرنسز آف ویلز ان نئی دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد خاص طور پر فکرمند ہیں، جن میں ایپسٹین کے نیٹ ورک اور اس سے جڑے افراد کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔شاہی ترجمان نے اپنی ابتدائی عوامی ردِعمل میں واضح کیا کہ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیتھرین کی توجہ سب سے بڑھ کر متاثرین اور بچ جانے والوں پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہی جوڑا ان افراد کے ساتھ کھڑا ہے جو ان واقعات سے متاثر ہوئے اور انصاف کے متلاشی ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ مسلسل سامنے آنے والی معلومات باعثِ تشویش ہیں اور شاہی خاندان اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
ادھر اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسرجو ماضی میں پرنس اینڈریو کے نام سے جانے جاتے تھے، ایک بار پھر خبروں میں ہیں کیونکہ ایپسٹین کے ساتھ ان کے پرانے تعلقات پر نئے سرے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایپسٹین کو 2008 میں کم عمر لڑکیوں سے متعلق جنسی جرائم کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے اس سے روابط برقرار رہنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔حالیہ انکشافات کے بعد بتایا گیا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن ونڈسر نے طے شدہ وقت سے پہلے ونڈسر میں واقع اپنی رہائش گاہ خالی کر دی ہے۔ بَکنگھم پیلس کی جانب سے اس سے قبل کہا گیا تھا کہ وہ 2026 کے اوائل میں رائل لاج چھوڑ دیں گے، لیکن اب ان کی رہائش کی تبدیلی پہلے ہی عمل میں آ چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ اب کنگ چارلس کی نجی ملکیت سینڈرنگھم اسٹیٹ میں مقیم ہیں۔
ماؤنٹ بیٹن ونڈسر ماضی میں ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے کسی بھی غیر قانونی یا غیر اخلاقی سرگرمی میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ برطانوی شاہی خاندان اس وقت عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے اور متاثرین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار پر زور دے رہا ہے، جبکہ یہ معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔





