شمالی بنگال کی شعری و ادبی خدمات کا اعتراف ضروری : مقررین
مغربی بنگال میں اردو کی تاریخی روایت قریب چار سو برس کی ہے : ڈاکٹر علیم الدین شاہ
مونی بھیٹہ، اتردیناج پور (8، فروری) انجمن فروغ علم و ادب کے زیر اہتمام مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے اشتراک سے آج بہ روز اتوار مونی بھیٹہ ہائی اسکول کے رابندر ناتھ- قاضی نذرل ہال میں منعقدہ با وقار سیمینار بہ عنوان : “مغربی بنگال میں اردو زبان و ادب : مسائل و امکانات ” میں مقالہ نگاروں نے اس بات پر زور دیا کہ شمالی بنگال کا اردو ادبی منظر نامہ پردۃ خفا میں رہ جاتا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں کے ادبی منظرنامے سے دنیا متعارف ہو اور یہاں کے ادبا و شعرا کی پذیرائی ہو تاکہ یہاں اردو زبان و ادب کا ماحول مزید سازگار ہو.
سیمینار کی صدارت چوپڑا کالج میں صدر شعبہ اردو ڈاکٹر علیم الدین شاہ نے اردو کی روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے شوبھا بازار کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ یہاں اردو زبان کی روایت قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے، جس کی عمر تقریباً چار سو برس ہے. انھوں نے اپنے صدارتی خطبے میں فرمایا کہ اردو زبان کے نظام تعلیم میں ترمیم و تبدل کی ضرورت ہے اور اینگلو اردو نظام تعلیم کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے.
پریسی ڈینسی یونی ورسٹی میں شعبہ تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر سجار رضوی نے اپنے کلیدی خطبے میں اردو زبان کو ادبی زبان کے ساتھ علمی، فکری اور عوامی زبان بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اردو کو شہری علاقوں کے ساتھ دیہی علاقوں میں بھی عوام سے جوڑنے کی ضرورت ہے.
مقالہ نگاروں اور مقررین نے مغربی بنگال، خاص طور سے شمالی بنگال میں اردو زبان و ادب کے فروغ پر روشنی ڈالی اور یہاں کی صورت حال، مسائل و امکانات پر اپنی گفتگو مرکوز رکھی. ماسٹر طارق عزیز ( بھلکا باڑی ہائی اسکول) نے ” شمالی بنگال میں اردو زبان و ادب کا فروغ : مسائل و امکانات”، افتخار الحق (ری سرچ اسکالر : عالیہ یونی ورسٹی کولکاتا) نے “روزگار، معیشت اور اردو زبان کا رشتہ”، ڈاکٹر محبوب عالم( شعبہ اردو، اسلام پور کالج) نے مغربی بنگال اور اردو افسانہ”، ڈاکٹر شہزاد شمس (ایس. بی ٹولی ہائی اسکول) نے” آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو تعلیم کی اہمیت و افادیت “، ڈاکٹر طیب فرقانی نے مغربی بنگال کے ادبی رسایل : تحقیق کا ایک نظر انداز شدہ موضوع”، ڈاکٹر ہارون رشید (اسسٹنٹ پروفیسر، دلکولہ کالج) نے” مغربی بنگال کے کالجوں میں اردو : ماضی، حال اور مستقبل” اور ڈاکٹر شہباز چشتی (صدر شعبہ عربی، سیتل کوچی کالج) نے شمالی بنگال میں اردو شاعری ” کے عنوانات سے اپنے مقالے پیش کیے.
اس سے قبل سیمینار کا آغاز حافظ شبیر عالم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، سیمینار کے کنوینر نثار دیناج پوری نے نعت پاک پیش کی اور منا مشتاق نے دل کش مترنم آواز میں غزل پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا. مغربی بنگال اردو اکیڈمی اسلام پور شاخ کے نوڈل آفیسر ایم آئی ناظم نے اپنے تاثراتی خطاب میں شمالی بنگال میں اردو کے فروغ پر روشنی ڈالتے ہوئے نثار دیناج پوری کی کوششوں کو سراہا، انقلاب فاؤنڈیشن کے چئیرمین ڈاکٹر صادق الاسلام، ڈاکٹر خورشید عالم (ٹیچر انچارج اسحاق مجلس پور ہائی اسکول) نے اور دوسرے مقررین نے اپنے خطاب میں شمالی بنگال میں اردو زبان و ادب کے مسائل و امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے یہاں کے ادبا و شعرا کو اعزاز دینے اور ان کی خدمات کا اعتراف کیے جانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی. مونی بھیٹہ ہائی اسکول کے طلبہ و طالبات نے اپنے مہمانوں کی گل پوشی کی اور ان کا استقبال کیا اور سیمینار میں شرکت کرکے تربیت حاصل کی. سیمینار کی نظامت کے فرائض طیب فرقانی نے انجام دیے. سیمینار کے کنوینر، معروف شاعر نثار دیناج پوری نے شکریے کی رسم ادا کی.






