خبرنامہ

پپو یادو گرفتار، عدالت نے علاج کے لیے بھیجا، ضمانت زیر غور

بہار کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمان پپو یادو کو 1995 کے ایک پرانے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔ پٹنہ پولیس نے انہیں جمعہ کی رات دیر گئے ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا، جس کے بعد ہفتے کے روز عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ہدایت دی کہ پپو یادو کو علاج کی غرض سے عدالتی تحویل میں پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال (پی ایم سی ایچ) منتقل کیا جائے۔ ان کی درخواستِ ضمانت پر آئندہ پیر کو سماعت متوقع ہے۔
پٹنہ کے سٹی ایس پی بھانو پرتاپ سنگھ کے مطابق یہ مقدمہ گردنی باغ تھانے میں درج ہے اور اس میں سابقہ تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جن میں دھوکہ دہی، جعل سازی، غیر قانونی داخلہ، مجرمانہ دھمکی اور سازش سے متعلق الزامات شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت تھا اور مقررہ تاریخ پر عدم حاضری کے باعث گرفتاری عمل میں لائی گئی۔دوسری جانب پپو یادو کے وکیل شیونندن بھارتی نے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل نے گرفتاری کے وقت مکمل تعاون کیا، اس کے باوجود ان پر سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک نیا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ وکیل کا کہنا ہے کہ 29 جولائی 2025 کو ان کا بیل بانڈ منسوخ ہوا اور وارنٹ جاری ہوا تھا، تاہم اس پر فوری عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پپو یادو کو وائی کیٹیگری سیکیورٹی حاصل ہے اور وہ پٹنہ آنے پر متعلقہ حکام کو پیشگی اطلاع دیتے رہے ہیں۔ وکیل کے مطابق موجودہ کارروائی کے وقت اور انداز سے سیاسی مقاصد کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔واضح رہے کہ یہ معاملہ اب عدالت میں زیرِ غور ہے اور آئندہ سماعت میں ضمانت کی درخواست پر فیصلہ متوقع ہے، جس پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر