اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں انروا کی بجلی پانی منقطع کیا
اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں انروا کا پانی اور بجلی بند کر دی، ادارے نے الزامات کی تردید کی۔
مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (انروا) کے صدر دفتر کو اسرائیلی حکام نے پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کردی ہے۔اسرائیل کے وزیر توانائی ایلی کوہن نے کہا کہ انہوں نے انروا کمپاؤنڈ میں پانی اور بجلی کی سہولیات منقطع کرنے کی ذاتی نگرانی کی اور تصدیق کی کہ بجلی اور پانی دونوں خدمات بند کردی گئی ہیں۔انہوں نے بدھ کی شام امریکی سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں مزید کہا، ’’میں نے انروا کی سپلائی کومکمل طور پر بند کیا ہے۔‘‘بعد ازاں کوہن نے اس سے قبل ایک اسرائیلی ریڈیو اسٹیشن کو بتایا تھا کہ وہ مشرقی یروشلم جا رہے ہیں تاکہ انروا کی سہولیات کو پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کا ذاتی مشاہدہ کرسکیں۔کوہن نے کہا، ’’اسرائیلی ریاست میں انروا کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘
دریں اثناء کوہن نے اسرائیل کے طویل عرصے سے قائم نام نہاد الزامات دہرائے کہ اقوام متحدہ کا یہ ادارہ حماس سے منسلک ہے، جبکہ انروا اور اقوام متحدہ نے بار بار اسےمسترد کیا ہے۔واضح رہے کہ ۲۰۲۴ء کے آخر میں، اسرائیلی کنیسٹ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں انروا کے کام کرنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ منظور کیا تھا۔۲۰۲۵ء کے آغاز میں، اسرائیلی حکومت نے ادارے کو شیخ جراح محلے میں اپنا صدر دفتر خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔۲۲؍جنوری۲۰۲۶ء کو،یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ زمین اسرائیل کی ہے اسرائیلی فوجیوں نے مشرقی یروشلم میں انروا کمپاؤنڈ پر چھاپہ مارا، اس جگہ پر قبضہ کر لیا، اور اس کی عمارتوں کو مسمار کر دیا،جبکہ اس دعوے کو ادارے نے مسترد کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ انروا کا قیام۱۹۴۹ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد کے ذریعے عمل میں آیا تھا۔ اس کا مقصد پانچ علاقوں،اردن، شام، لبنان، مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد اور تحفظ مہیا کرنا ہے۔ادارہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے عطیات پر انحصار کرتا ہے اور یہ فلسطینی پناہ گزینوں کو خوراک، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور رہائش سمیت بنیادی انسانی امداد فراہم کرنے والا اہم ادارہ ہے۔





