راجیہ سبھا میں مودی کا راہل گاندھی پر سخت حملہ
راجیہ سبھا میں مودی نے راہل کے بیان کو سکھ برادری کی توہین قرار دیا، لفظی تنازع شدت اختیار کرگیا۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا میں خطاب کے دوران کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کے ایک رکن نے مرکزی وزیر رونیت سنگھ بٹو کو غدار کہہ کر نہ صرف ایک فرد بلکہ پوری سکھ برادری کی دل آزاری کی ہے۔وزیرِ اعظم کے مطابق کانگریس سے ماضی میں بھی کئی رہنما علیحدہ ہو کر دیگر جماعتوں میں شامل ہوتے رہے ہیں، پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ بھی ہوتی رہی، لیکن اس سے پہلے کبھی کسی کو اس طرح کے لفظ سے مخاطب نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی رکن کو صرف اس بنیاد پر غدار کہنا کہ اس نے سیاسی وابستگی تبدیل کر لی، انتہائی نامناسب ہے۔
نریندر مودی نے مزید کہا کہ مذکورہ رکن نے بٹو کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ سکھ ہیں، اور یہ رویہ سکھ برادری اور ان کے مقدس پیشواؤں کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کے اندر سکھوں کے بارے میں منفی سوچ پائی جاتی ہے اور یہ واقعہ اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ اگر واقعی اس بیان پر افسوس ہوتا تو متعلقہ رہنما ایوان میں کھڑے ہو کر وضاحت یا معذرت کر سکتے تھے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول غدار جیسا لفظ معمولی نہیں ہوتا اور کسی بھی ہندوستانی شہری کے لیے اس کا استعمال قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس واقعے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر اس نوعیت کی زبان جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ بدھ کے روز پیش آیا جب راہل گاندھی نے ایوان میں رونیت سنگھ بٹو کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے انگریزی میں جملہ کہا جس کا مفہوم ’ہیلو میرے غدار دوست‘تھا۔ اس پر بٹو نے مصافحہ کرنے سے انکار کیا اور راہل گاندھی کو ’ملک کا دشمن‘ قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد ایوان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا۔





