سپریم کورٹ میں انیل امبانی بینک فراڈ کیس سماعت
سپریم کورٹ نے انیل امبانی کیس میں ایس آئی ٹی بنانے کا حکم دیا، وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ملک نہیں چھوڑیں گے۔
سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ریلائنس کمیونیکیشنز (آرکام) اور اس کے چیئرمین انیل امبانی کے خلاف مبینہ بینک فراڈ سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔ یہ معاملہ ان الزامات سے جڑا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی نے بینکوں سے حاصل کردہ بھاری قرض کو طے شدہ مقاصد کے برخلاف استعمال کیا۔سماعت کے دوران انیل امبانی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل مکل روہتگی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مؤکل ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ وکیل نے واضح طور پر کہا کہ انیل امبانی عدالت کی اجازت کے بغیر بیرونِ ملک سفر نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ تحریری یقین دہانی (انڈرٹیکنگ) عدالت میں جمع کرائی گئی، جسے بینچ نے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔
عدالت میں یہ خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ اگر تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے انیل امبانی بیرونِ ملک چلے گئے تو کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہی اندیشوں کے پیشِ نظر ان کے وکلاء نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ قانونی عمل میں مکمل تعاون کریں گے اور ملک میں موجود رہیں گے۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جوی مالا باگچی اور جسٹس وپل پنچولی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سخت ہدایات جاری کیں۔ عدالت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو حکم دیا کہ وہ سینئر افسران پر مشتمل ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے۔ یہ ٹیم ریلائنس کمیونیکیشنز اور انیل امبانی کے خلاف لگائے گئے مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی جامع جانچ کرے گی۔
درخواست گزار کے مطابق آرکام اور اس کی ذیلی کمپنیوں نے 2013 سے 2017 کے درمیان اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی قیادت میں قائم بینکوں کے کنسورشیم سے تقریباً 31 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا قرض حاصل کیا تھا۔ الزام ہے کہ اس رقم کو بنیادی کاروباری مقاصد کے بجائے دیگر واجبات کی ادائیگی، میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری اور فکسڈ ڈپازٹس میں منتقل کیا گیا۔عدالت نے واضح کیا کہ تحقیقات شفاف اور مؤثر انداز میں ہونی چاہئیں تاکہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے اور اگر کوئی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ یہ معاملہ آئندہ سماعتوں میں مزید زیرِ غور آئے گا۔





