امریکا میں بزنس جیٹ حادثہ سات افراد ہلاک ایک زخمی
امریکا کی ریاست مینے میں بزنس جیٹ حادثے کا شکار، سات افراد ہلاک، ایک شدید زخمی، حادثہ شدید برفباری کے دوران پیش آیا۔
امریکا کی ریاست مینے (Maine) میں واقع بینگر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک نجی کاروباری طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک شخص شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے کی تصدیق امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے کی ہے۔یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکا کے مختلف حصوں میں شدید برفانی طوفان جاری ہے۔ بینگر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو بوسٹن سے تقریباً 200 میل شمال میں واقع ہے، حادثے کے فوراً بعد عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حادثے کے وقت علاقے میں شدید برفباری اور خراب موسمی حالات تھے، جس کے باعث حدِ نگاہ بھی کم ہو چکی تھی۔ایف اے اے کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ بمبارڈیئر چیلنجر 600 ماڈل کا بزنس جیٹ تھا، جس میں مجموعی طور پر آٹھ افراد سوار تھے۔ طیارہ اتوار کی شام تقریباً 7 بج کر 45 منٹ پر (مقامی وقت کے مطابق) روانہ ہوا، تاہم ٹیک آف کے فوراً بعد ہی زمین سے ٹکرا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے بعد طیارے میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔
واقعے کے بعد فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) نے مشترکہ طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ این ٹی ایس بی کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طیارہ پرواز کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہوا، تاہم حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کے مکمل طور پر جائے حادثہ پر پہنچنے اور شواہد جمع کرنے سے پہلے مزید تفصیلات جاری نہیں کی جائیں گی۔این ٹی ایس بی کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں سے متعلق معلومات فراہم کرنا مقامی حکام کی ذمے داری ہے اور اس معاملے میں بورڈ کوئی بیان جاری نہیں کرے گا۔ دوسری جانب بینگر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر، خوسے ساویڈرا نے پیر کے روز ایک پریس بریفنگ کے دوران متاثرین کی شناخت یا ان کی حالت کے بارے میں کوئی تفصیل دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی اداروں کی ہدایات اور تعاون کے منتظر ہیں۔
حکام کے مطابق شدید موسم اور برفانی طوفان اس حادثے میں ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے، تاہم حتمی نتائج تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر خراب موسمی حالات میں فضائی سفر کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔





