خبرنامہ

تیجسوی یادو کی تقرری پر تیج پرتاپ اور روہنی کا ردِعمل

بہار کی سیاست میں ایک بار پھر خاندانی اور جماعتی بیانات نے توجہ حاصل کر لی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر رہنما اور بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کو پارٹی کا قومی قائم مقام (ایگزیکٹو) صدر مقرر کیے جانے کے بعد ان کے بڑے بھائی اور جن شکتی جنتا دل کے سربراہ تیج پرتاپ یادو کا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ان کے بیان کو سیاسی حلقوں میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔میڈیا سے گفتگو کے دوران تیج پرتاپ یادو نے کہا کہ اگر تیجسوی یادو کو پارٹی میں کوئی بڑی ذمے داری دی گئی ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ اس ذمے داری کو پوری ایمانداری اور سنجیدگی کے ساتھ نبھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں ہر شخص کو جو بھی عہدہ یا ذمے داری سونپی جاتی ہے، س پر عمل کرنا اس کی اولین ذمےداری ہوتی ہے۔ تیج پرتاپ کے مطابق، عہدے کے ساتھ جواب دہی بھی جڑی ہوتی ہے اور یہی جمہوری سیاست کا بنیادی اصول ہے۔
اسی گفتگو کے دوران ان سے ان کی بہن روہنی آچاریہ کے اس سوشل میڈیا پوسٹ پر بھی سوال کیا گیا، جس میں انہوں نے پارٹی قیادت اور موجودہ سیاسی صورتحال پر سخت الفاظ میں تنقید کی تھی۔ اس پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے تیج پرتاپ یادو نے کہا کہ روہنی آچاریہ نے جو کچھ لکھا ہے، وہ ان کے مطابق بالکل درست ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ بہن کے خیالات سے اتفاق رکھتے ہیں اور ان کے بیان میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔واضح رہے کہ روہنی آچاریہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بالواسطہ طور پر پارٹی کے اندرونی معاملات اور قیادت کی تبدیلی کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے اپنی تحریر میں سیاسی اصطلاحات اور طنزیہ انداز استعمال کرتے ہوئے اس فیصلے پر سوالات اٹھائے، جس کے بعد یہ معاملہ سیاسی بحث کا مرکز بن گیا۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آر جے ڈی کے صدر اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے گزشتہ برس اپنے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو کو پارٹی سے چھ سال کے لیے نکال دیا تھا۔ یہ کارروائی تیج پرتاپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کی گئی ایک متنازع پوسٹ کے بعد کی گئی تھی۔ اگرچہ بعد میں تیج پرتاپ یادو نے وضاحت دی تھی کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا اور اسی لیے انہوں نے وہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی، تاہم پارٹی قیادت نے ان کی وضاحت قبول نہیں کی۔پارٹی سے اخراج کے بعد تیج پرتاپ یادو نے اپنی الگ سیاسی جماعت “جن شکتی جنتا دل” قائم کی، جس کے ذریعے وہ بہار کی سیاست میں اپنی شناخت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آر جے ڈی میں ہونے والی حالیہ تنظیمی تبدیلیاں اور خاندان کے اندر سامنے آنے والے بیانات آنے والے وقت میں بہار کی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر