خبرنامہ

تیجسوی یادوآر جے ڈی کے قائم مقام صدر مقرر،نئی سیاسی شروعات

بھارت کی معروف سیاسی جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) میں ایک اہم تنظیمی تبدیلی عمل میں آئی ہے۔ بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور آر جے ڈی کے سینئر رہنما تیجسوی یادو کو پارٹی کا نیا قائم مقام (ایگزیکٹو) صدر مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پٹنہ میں منعقدہ پارٹی کی قومی عاملہ کی میٹنگ میں اتفاقِ رائے سے کیا گیا، جسے آر جے ڈی کے مستقبل کی سیاست کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔پارٹی نے اس فیصلے کا باضابطہ اعلان اپنے سرکاری ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ کے ذریعے کیا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ یہ آر جے ڈی کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے اور تیجسوی یادو کو پارٹی کی قیادت میں ایک بڑی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ نوجوان قیادت کے تحت تنظیم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا اور آنے والے انتخابی چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جائے گا۔
اس موقع پر آر جے ڈی کے صدر اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو بھی موجود تھے۔ ان کے ساتھ سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، راجیہ سبھا رکن میسا بھارتی اور پارٹی کے کئی سینئر رہنما بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ پارٹی حلقوں میں اس فیصلے کو لالو پرساد یادو کی سیاسی وراثت کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ تیجسوی یادو گزشتہ چند برسوں سے پارٹی کی عملی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔دوسری جانب اس اعلان کے بعد لالو یادو کی صاحبزادی روہنی آچاریہ کا بیان بھی سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ روہنی آچاریہ، جو اس سے قبل سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کر چکی ہیں، نے ایکس پر ایک سخت لب و لہجے میں پوسٹ کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں اشاروں کنایوں میں پارٹی کی اندرونی سیاست اور قیادت کی تبدیلی پر تنقید کی، جسے کئی مبصرین نے خاندانی اختلافات سے جوڑ کر دیکھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تیجسوی یادو کو قائم مقام صدر بنانا آر جے ڈی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد نوجوان ووٹروں کو متوجہ کرنا اور پارٹی کو ایک جدید سیاسی رخ دینا ہے۔ بہار کی سیاست میں تیجسوی یادو پہلے ہی ایک مضبوط عوامی چہرے کے طور پر ابھر چکے ہیں اور اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔اس تنظیمی تبدیلی کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں کہ آنے والے دنوں میں آر جے ڈی کی قیادت اور انتخابی حکمتِ عملی میں مزید بڑے فیصلے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ پارٹی کے حامی اس فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین اسے خاندانی سیاست کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر