مظاہرین، مہنگائی اور امریکہ کی سخت نظر
ٹرمپ نے ایران پر کڑی نظر اور فوجی دباؤ کا اعلان کرتے ہوئے مظاہرین کی پھانسی روکنے کا دعویٰ کیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی صورتحال پر نہایت گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیاں بڑھائی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایک بڑی امریکی فوجی طاقت ایران کی سمت پیش قدمی کر رہی ہے، تاہم فی الحال کسی فوری فوجی کارروائی کا امکان نظر نہیں آ رہا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات صدارتی طیارے ’’ایئر فورس ون‘‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے اقدامات کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کر رہا ہے اور اگر حالات بگڑتے ہیں تو سخت ردِعمل دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی مداخلت کے نتیجے میں ایران میں سینکڑوں افراد کو دی جانے والی سزائے موت روک دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایران میں 837 افراد کو پھانسی دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، تاہم امریکہ کی سخت وارننگ کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر پھانسیوں پر عمل درآمد کیا گیا تو امریکہ کی جانب سے ایسا سخت قدم اٹھایا جائے گا جو ماضی میں ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف کی گئی کارروائی سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت نے اس وارننگ کو سنجیدگی سے لیا اور پھانسیوں کو صرف مؤخر نہیں بلکہ مکمل طور پر منسوخ کر دیا۔امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ کا ایک بڑا بحری بیڑا بھی اسی خطے کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ شاید اسے استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ ان کے بقول، امریکہ طاقت کے استعمال سے زیادہ دباؤ اور نگرانی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی بدحالی اور بے روزگاری کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہے۔ ان مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے مختلف رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی حکومت ان گرفتار مظاہرین کو سزائے موت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔اسی تناظر میں صدر ٹرمپ کے بیانات سامنے آئے، جن میں انہوں نے کہا کہ امریکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں بیٹھے گا اور ایران کے اندرونی حالات پر کڑی نظر رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے حالیہ فیصلے ایک مثبت اشارہ ہیں، تاہم امریکہ بدستور محتاط رہے گا۔





