دھرم کے نام پر دھوکہ کرنے والوں کے لیے یوگی کا سخت انتباہ
یوگی آدتیہ ناتھ نے کالنیمی عناصر کی خبرداری دی، سناتن دھرم اور قوم کی حفاظت پر زور دیا۔
الہ آباد کے ماغ میلے میں شنکرآچاریہ سے متعلق حالیہ تنازع کے درمیان، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مذہب، قوم اور سناتن دھرم کے حوالے سے سخت اور واضح پیغام دیا ہے۔ بغیر کسی کا نام لیے، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں کچھ لوگ مذہب کا سہارا لے کر سناتن دھرم کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور معاشرے کو ایسے عناصر سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعلیٰ نے ایسے لوگوں کو ‘کالنیمی’ قرار دیا اور کہا کہ یہ لوگ باہر سے مذہبی دکھائی دیتے ہیں، لیکن اصل میں دھرم کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک یوگی، سنت یا سنسی کے لیے مذہب اور قوم سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سنسی کی کوئی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، اس کی اصل دولت مذہب ہوتا ہے اور قوم اس کا حقیقی فخر ہوتی ہے۔ جو بھی شخص مذہب کے خلاف عمل کرے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو، اسے سناتن روایت کا نمائندہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
کالنیمی کے لفظ کی گہری معنویت بھی واضح کی گئی۔ رامائن میں کالنیمی ایک مایاہوی دسی تھا، جس نے سادھو کا لباس پہن کر ہنومان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ باہر سے وہ مذہبی اور تپویٰ دکھائی دیتا تھا، لیکن اندر سے اس کا مقصد بھگوان رام کے کام میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔ آخرکار ہنومان نے اس کے دھوکے کو پہچان کر اسے ہلاک کیا۔ وزیر اعلیٰ کے یہ الفاظ اسی پس منظر میں دیکھے جا رہے ہیں۔ان کے بیان کا وقت بھی اہم ہے، کیونکہ شنکرآچاریہ کو اپنے پیروکاروں کے ساتھ رتھ میں مونی امواسیا پر جگہ منتقل ہونے سے روکنے کے بعد بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کسی مخصوص شخص یا ادارے کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے الفاظ موجودہ تنازع کے پس منظر میں واضح پیغام دیتے ہیں ۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے مزید کہا کہ مذہب صرف لباس یا الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں دکھائی دینا چاہیے۔ انہوں نے معاشرے سے اپیل کی کہ مذہب کے نام پر پھیلائے جانے والے دھوکے اور دکھاوے سے ہوشیار رہیں۔ ان کے مطابق سناتن دھرم نے ہمیشہ سچائی، صبر اور قوم کے مفاد کو مقدم رکھا ہےاور اسی راہ پر چلنا ہی اس کی سچی خدمت ہے۔





