ایران میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اورامریکی اسرائیلی روابط کے الزاماتات
ایران میں احتجاج کے دوران 284 افراد گرفتار، امریکا اور اسرائیل سے مبینہ روابط، املاک نقصان، عوامی اور سکیورٹی حملوں کے الزامات۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق 20 جنوری کو ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ سرکاری بیانات میں ان مظاہروں کو حکومت مخالف سرگرمیوں کے بجائے ’فسادات‘ قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ گرفتار افراد پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کے امریکا اور اسرائیل سے روابط کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے مغربی صوبے لورستان میں قائم ابو الفضل کور نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں ہونے والے احتجاج کے بعد فوری اور ہنگامی کارروائیوں کے ذریعے 134 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آئی آر جی سی سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ان گرفتار شدگان کو ’’ایجنٹس، بااثر عناصر اور اہم رہنماؤں‘‘ کے طور پر شناخت کیا گیا ہے، جن کا مبینہ طور پر احتجاجی سرگرمیوں میں مرکزی کردار تھا۔
پاسدارانِ انقلاب کے صوبائی کور کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کا تعلق ایک نام نہاد ’امریکی دہشت گرد نیٹ ورک‘ سے ہے اور انہوں نے مختلف علاقوں میں خفیہ دہشت گرد سیلز قائم کر رکھے تھے۔ بیان میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ ان افراد نے داعش کے طرز پر کارروائیاں کیں، مختلف اقسام کے اسلحے کا استعمال کیا اور سکیورٹی فورسز پر حملے کر کے اہلکاروں کو زخمی کیا۔آئی آر جی سی کے مطابق گرفتار افراد نے احتجاج کے دوران عوامی اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور متعدد مقامات کو آگ لگائی۔ بیان میں کہا گیا کہ تباہ کیے گئے مقامات میں مساجد، دکانیں، بینک، سرکاری و نجی عمارتیں اور سروس گاڑیاں شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں ملوث عناصر کے خلاف گرفتاریوں کا عمل تاحال جاری ہے اور مزید افراد کو بھی حراست میں لیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے شمال مغربی صوبے زنجان میں تعینات پبلک سکیورٹی پولیس نے بھی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کے مطابق صوبائی دارالحکومت زنجان میں ہونے والے مظاہروں کے دوران بدامنی پھیلانے کے الزام میں 150 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جنہیں ’شرپسند عناصر اور ان کے سرغنہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ بھی تسنیم نیوز ایجنسی کے ذریعے شائع کی گئی۔پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ گرفتار افراد کو مالی لالچ دے کر مظاہروں میں شرکت پر اکسایا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے احتجاج کے دوران عام شہریوں کو نقصان پہنچایا، مقدس مقامات کی بے حرمتی کی، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا، فوجی تنصیبات میں داخل ہونے کی کوشش کی، عوامی نظم و ضبط کو متاثر کیا اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلایا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایسی کارروائیاں ضروری ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے ان گرفتاریوں پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید سخت اقدامات دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔





