ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: نیٹو کو بچانے اور مضبوط بنانے کا سہرا میرے سر
ٹرمپ نے نیٹو کے لیے اپنے کردار کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے امریکی اخراجات، اتحادیوں کی وفاداری اور نیٹو کے مستقبل پر سوالات اٹھائے۔
امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر نیٹو کے حوالے سے اپنے دعوے کو دہرایا ہے اور کہا ہے کہ نیٹو کے لیے جتنا مؤثر اور فیصلہ کن کردار انہوں نے ادا کیا، اتنا کسی اور امریکی صدر نے نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات محض ان کی رائے نہیں بلکہ نیٹو سے وابستہ کئی افراد بھی اس کی تصدیق کریں گے۔ایک حالیہ بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے بھی سوال کیا جائے تو وہ بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکیں گے کہ نیٹو کو مضبوط بنانے میں ان کی کوششیں کلیدی رہی ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ان کے دباؤ اور واضح پالیسی کے نتیجے میں نیٹو کے کئی رکن ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا، جو کہ طویل عرصے سے نظر انداز کیا جا رہا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ نیٹو کے لیے سب سے زیادہ مالی وسائل فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ نیٹو کے دفاعی نظام پر بڑی مقدار میں خرچ ہوتا ہے اور امریکہ ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے اتحادی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا نیٹو کے تمام رکن ممالک بھی امریکہ کے لیے اسی طرح کھڑے ہوں گے یا نہیں۔ٹرمپ نے واضح انداز میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر نیٹو ممالک کی مدد ضرور کرے گا، لیکن وہ اس بات پر مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں کہ نیٹو بھی امریکہ کے ساتھ ویسی ہی وفاداری کا مظاہرہ کرے گا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ وہ نیٹو کے اندر ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم پر زور دیتے رہے ہیں۔
اس بریفنگ سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بھی ایک سخت بیان جاری کیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ اگر وہ اقتدار میں نہ آتے تو آج نیٹو کا وجود خطرے میں پڑ چکا ہوتا۔ ان کے بقول نیٹو اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ وہ تاریخ کے کوڑے دان میں جانے کے قریب تھا، لیکن ان کی پالیسیوں نے اسے دوبارہ فعال اور مضبوط بنایا۔مزید برآں، ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ میں نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ایک پیغام کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا۔ اس پیغام میں مارک روٹے نے گرین لینڈ کے معاملے پر تعاون اور آگے بڑھنے کے لیے مشترکہ حل تلاش کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس پیغام کو اس بات کی مثال قرار دیا کہ نیٹو کی قیادت ان کے مؤقف کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔یہ بیانات ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نیٹو کے کردار، امریکی مفادات اور عالمی دفاعی ذمہ داریوں پر سخت اور دوٹوک مؤقف رکھتے ہیں۔





