ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی پراسرار ہولناک موت
سہارنپور میں ایک خاندان کے پانچ افراد مشکوک حالات میں ہلاک، پولیس ہر زاویے سے تحقیقات کر رہی ہے۔
سہارنپور کے نکوڑ علاقے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی مشکوک حالات میں موت نے پورے علاقے میں ہلچل مچا دی ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق ایک گھر کے کمرے میں اشوک، ان کی بیوی انجیتا،ماں ودیاؤتی اور دونوں بیٹے کارتک اور دیو کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ تمام افراد کے ماتھے پر گولی کے نشانات موجود ہیں اور کمرے سے تین پستول بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، اشوک اور انجیتا کی لاشیں فرش پر پائی گئیں، جبکہ والدہ اور دونوں بچے بیڈ پر پڑے ہوئے تھے۔ابتدائی تحقیقات میں پولیس کا شبہ ہے کہ یہ ایک المناک واقعہ خودکشی اور قتل کا امتزاج ہو سکتا ہے۔ ممکنہ طور پر اشوک نے پہلے اپنی والدہ، بیوی اور دونوں بچوں کو گولی مار کر ہلاک کیا اور بعد میں خودکشی کر لی۔ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں خاندان پر مالی دباؤ، نوکری یا ملازمت سے متعلق مسائل، گھریلو جھگڑے یا ذہنی تناؤ تو اثر انداز نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے یہ افسوسناک قدم اٹھایا گیا۔
پولیس یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ آیا خاندان کے کسی رکن کے درمیان کسی تنازعہ کے دوران غصے میں فائرنگ ہوئی یا کسی بیرونی شخص نے گھر میں داخل ہو کر یہ واقعہ کیا۔ اس سلسلے میں پڑوسیوں سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں، خاندان کے کسی رکن کے کاروباری یا ذاتی معاملات میں دشمنی یا تنازعہ کے پہلوؤں کی بھی تحقیق جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق اشوک نکوڑ تحصیل نوکری کرتا تھا جو انہیں اپنے والد کے انتقال کے بعد نوکری میرٹ پر ملی تھی۔ ان کے بیٹے دیو کی عمر تقریباً 14 سال تھی اور وہ مقامی نجی اسکول میں نویں جماعت کے طالب علم تھے، جبکہ کارتک دسویں جماعت میں نکوڑ کے انٹر کالج میں زیر تعلیم تھا۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ خاندان عام طور پر پرامن اور خوش اخلاق تھا اور کسی سے کوئی واضح جھگڑا یا دشمنی نہیں تھی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی اعلیٰ پولیس افسران اور فورینزک ٹیم موقع پر پہنچ گئے اور گھر کو سیل کر کے تمام موبائل فون قبضے میں لے لیے گئے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ معاملے کی ہر زاویے سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ واقعہ خودکشی تھا یا کسی جان لیوا عمل کا نتیجہ۔یہ واقعہ نہ صرف اہلِ علاقہ کے لیے صدمے کا باعث بنا ہے بلکہ پولیس بھی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے تاکہ درست حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔





