خبرنامہ

ٹرمپ کی گرین لینڈ پر ضد، یورپ کو بھاری ٹیرِف کی کھلی دھمکی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک کو ایک بار پھر سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی مؤقف کی مخالفت جاری رکھی تو امریکہ اپنی جانب سے تجارتی ٹیرِف عائد کرنے کی دھمکی پر مکمل طور پر عمل کرے گا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سو فیصد نافذ کیا جائے گا اور اس میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔یورپ کے کئی ممالک نے گرین لینڈ کی خودمختاری کے حق میں واضح اور مشترکہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ ڈنمارک جس کے زیرِ انتظام گرین لینڈ ایک نیم خودمختار علاقہ ہے، نے امریکی بیانات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن کا کہنا ہے کہ دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے گرین لینڈ کو حاصل کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ علاقہ نہ تو فروخت کے لیے ہے اور نہ ہی کسی طاقت کے دباؤ میں آنے والا ہے۔
برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف وہاں کے عوام اور ڈنمارک کو حاصل ہے۔ ان کے مطابق کسی تیسرے ملک کو اس معاملے میں زبردستی مداخلت کا اختیار نہیں۔امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں یہ کہنے سے گریز کیا کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے کے لیے طاقت استعمال نہیں کریں گے۔ ان کا مبہم جواب یورپی دارالحکومتوں میں تشویش کا باعث بنا ہے۔ اسی گفتگو میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ برطانیہ اور نیٹو کے دیگر اتحادی ممالک سے امریکہ آنے والی اشیا پر اضافی ٹیرِف عائد کرنے کا منصوبہ بدستور موجود ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یکم فروری سے برطانیہ سے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر دس فیصد ٹیرِف لگایا جائے گا، جو یکم جون سے بڑھا کر پچیس فیصد کر دیا جائے گا، بشرطیکہ گرین لینڈ کی خریداری کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہ پا سکے۔ یہی پالیسی ڈنمارک کے ساتھ ساتھ ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ پر بھی لاگو ہوگی، جو سب نیٹو کے رکن ممالک ہیں۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ یورپی یونین تصادم نہیں چاہتی، تاہم وہ اپنی اصولی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی دھمکیوں کے ذریعے سیاسی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے اور خودمختاری کسی قسم کی سودے بازی کا موضوع نہیں ہو سکتی۔یہ صورتحال امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں ایک نئے تناؤ کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور تجارت دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر