خبرنامہ

یورپی اتحادیوں پر امریکی ٹیرف غیرمنطقی، ڈنمارک اور ناروے کی تنقید

اوسلو میں ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تجارتی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی نیٹو اتحادیوں پر محصولات عائد کرنے کا فیصلہ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ مکمل طور پر غیر منطقی بھی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یورپی ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر سیکیورٹی کے شعبے میں قریبی تعاون کر رہے ہیں۔لارس لوکے راسموسن نے ڈنمارک کے سرکاری نشریاتی ادارے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حالیہ سیکیورٹی مشن “آرکٹک انڈیورنس” کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ آپریشن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈنمارک اور اس کے اتحادی آرکٹک خطے کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یورپی اتحادیوں پر تجارتی دباؤ ڈالنا نہ صرف نامناسب ہے بلکہ باہمی اعتماد کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کے بقول یہی وہ تعاون ہے جس کے باوجود محصولات عائد کیے جا رہے ہیں، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔
ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے بھی موجودہ عالمی حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت ایک غیر معمولی اور فیصلہ کن دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف لگانے کی دھمکیوں کو دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ ناروے اور اس کے اتحادی اس طرح کے اقدامات کے آگے جھکنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ایسپن بارتھ ایڈے کا کہنا تھا کہ نیٹو کے رکن ممالک، جن میں وہ آٹھ یورپی ریاستیں بھی شامل ہیں جنہیں امریکی محصولات کا سامنا ہے، امریکہ کے ساتھ مل کر آرکٹک خطے میں امن و سلامتی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آرکٹک میں واقع آٹھ میں سے سات ممالک نیٹو کا حصہ ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں موجودہ اور مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اتحاد پہلے سے موجود ہے۔انہوں نے اس موقع پر نیٹو کے بنیادی اصولوں کو بھی دہرایا اور کہا کہ اس اتحاد کی اصل بنیاد رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر قائم ہے۔ ناروے کے وزیرِ خارجہ نے ڈنمارک کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک ایک دوسرے کے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے متحد رہیں گے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل یہ بیان دے چکے ہیں کہ وہ سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول بڑھانے کے خواہاں ہیں، جس پر یورپی ممالک میں پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے۔ موجودہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے پر امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر