بلدیاتی شکست کے بعدراج ٹھاکرے کا اعتراف،ایم این ایس تنظیم نو کا اعلان
راج ٹھاکرے نے بلدیاتی شکست پر اعتراف کیا، ایم این ایس کارکنوں کو حوصلہ دیا اور پارٹی کی تنظیم نو کا اعلان کیا۔
مہاراشٹر میں ہوئے بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں خراب کارکردگی کے بعد مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے نتائج پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کو توقع کے مطابق کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کہیں نہ کہیں کوتاہی ضرور ہوئی ہے، جس کا وہ سنجیدگی سے جائزہ لیں گے تاکہ آئندہ بہتر حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔راج ٹھاکرے نے کہا کہ یہ انتخاب محض سیاسی مقابلہ نہیں تھا بلکہ یہ دولت اور اقتدار کی طاقت کے خلاف ایک مشکل جدوجہد تھی۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں بھی شیو سینا (یو بی ٹی) اور ایم این ایس کے کارکنوں نے پوری محنت اور جرات کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے کارکنوں کی جدوجہد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی کوششوں سے مطمئن ہیں۔
ایم این ایس سربراہ نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی کی جدوجہد کسی عہدے یا اقتدار کے لیے نہیں بلکہ مراٹھی عوام، مراٹھی زبان اور مراٹھی شناخت کے تحفظ کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور خوشحال مہاراشٹر کی تعمیر ہی ان کی سیاست کا بنیادی مقصد ہے۔ راج ٹھاکرے کے مطابق یہی نظریہ ان کی جماعت کے وجود کی بنیاد ہے اور اس راہ میں آنے والی مشکلات کو وہ ایک طویل جدوجہد کا حصہ سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کی نظریاتی لڑائیاں جلد ختم نہیں ہوتیں بلکہ ان کے لیے صبر، استقامت اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ راج ٹھاکرے نے کارکنوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وقتی ناکامی سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اس سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔
انتخابی نتائج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی تنظیمی کاموں میں دوبارہ پوری طرح سرگرم ہوں گے اور پارٹی کو ازسرِ نو منظم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم این ایس کو نچلی سطح سے مضبوط کیا جائے گا اور تنظیمی ڈھانچے میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ مستقبل میں عوام کے درمیان پارٹی کی موجودگی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ ایم این ایس کو اس بار ریاست بھر میں صرف 12 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے، جو پارٹی کی توقعات سے کہیں کم ہے۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) میں بھی پارٹی محض چھ نشستیں ہی جیت سکی۔ ان نتائج کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ایم این ایس کے مستقبل اور اس کی حکمتِ عملی پر بحث تیز ہو گئی ہے، تاہم راج ٹھاکرے کے بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پارٹی آئندہ کے لیے خود کو نئے سرے سے تیار کرنے کے موڈ میں ہے۔





