راہل گاندھی نے اندور میں پانی متاثرین سے ملاقات کی
راہل گاندھی نے اندور میں آلودہ پانی متاثرین سے ملاقات کی، حکومت پر ناکامی، نہ ملنے اور اموات الزام لگایا۔
مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں آلودہ پانی کے باعث بیمار ہونے والے افراد اور جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران متاثرہ خاندانوں نے اپنے دکھ درد اور مسائل راہل گاندھی کے سامنے رکھے۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں سے ملے ہیں جو اس واقعے سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک بڑے اور ترقی یافتہ شہر میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ گفتگو کے وقت جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ بھی ان کے ساتھ موجود تھے، جن کے چہروں پر غم اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔
راہل گاندھی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اسمارٹ سٹی بنانے کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے مطابق یہ اسمارٹ سٹی کا ایک نیا ماڈل ہے جہاں لوگوں کو پینے کے لیے صاف پانی تک دستیاب نہیں اور جب وہ اپنی آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں ڈرایا اور دبایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی پینے کے سبب کئی قیمتی جانیں چلی گئیں، جو کہ انتظامیہ کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ ایک ذمہ دار حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ شہریوں کو صاف پانی فراہم کرے اور آلودگی پر قابو پائے، لیکن موجودہ حکومت اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اندور میں اس وقت حالات ایسے ہیں کہ صاف پانی ملنا مشکل ہو گیا ہے اور لوگ پانی پینے کے بعد بیمار ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف اندور کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے کئی شہروں میں بنیادی سہولیات کی حالت تشویشناک ہے۔ راہل گاندھی نے مطالبہ کیا کہ پانی کی سپلائی کے نظام کو بہتر بنایا جائے، آلودگی کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہو اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے تاکہ انہیں کچھ حد تک راحت مل سکے۔





