اقوامِ متحدہ اجلاس میں ایران،امریکہ اور اسرائیل تنازع کی کشیدگی
اقوامِ متحدہ میں ایران نے امریکہ، اسرائیل پر ہنگامے اور اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کیے، امریکہ نے انسانی حقوق کی خلافی قرار دی۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں ایران کے نمائندے نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران میں ہنگامے اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایران کے نائب مستقل مندوب غلام حسین درزی کے تقریر کا بیشتر حصہ امریکہ پر مرکوز رہا۔ درزی نے امریکی نمائندے کی طرف سے مظاہرین پر خونریز کارروائی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ اگر امریکہ واقعی معصوم شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر فکر مند ہے تو اسے منیسوٹا میں حکام کی ہاتھوں ایک خاتون کے قتل کے معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔ایرانی نمائندے نے دعویٰ کیا کہ ایران میں احتجاجات کی سمت میں تبدیلی اور بعد میں ہونے والی خونریز کارروائیاں دراصل اسرائیل اور امریکہ کی اشتعال انگیزی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی طاقتیں ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں تاکہ ملک میں بے چینی پیدا ہو اور عوامی ردعمل کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
ایرانی نمائندے کے خطاب سے قبل امریکہ نے ایران کی موجودہ صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ امریکی نمائندے مائیک والٹز نے ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ایرانی حکومت کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہِ راست شرکت کے الزامات عائد کیے۔ والٹز نے کہا کہ ایران دہائیوں سے اپنے پراکسی گروپوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں غیر استحکام پیدا کر رہا ہے۔امریکی نمائندے نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت نے اپنی عوام کی فلاح اور مسائل کی بجائے ایٹمی اور میزائل پروگراموں کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس ایرانی عوام کو لاحق خطرات اور ممکنہ “قتل عام” کو روکنے کے تمام اختیارات موجود ہیں اور ایرانی حکام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ تازہ کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر داخلی اور علاقائی عدم استحکام کے ذمہ دار ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔ اجلاس میں شریک دیگر ممالک نے بھی خطے میں جاری حالات پر تبادلۂ خیال کیا اور امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔





