جالنا نگر نگم انتخاب میں متنازع آزاد امیدوار شری کانت پنگارکر کی کامیابی
جالنا نگر نگم انتخاب میں آزاد امیدوار شری کانت پنگارکر کامیاب، گوری لنکیش قتل اور نالاسوپارہ اسلحہ کیس سے نام جڑا رہا۔
مہاراشٹر کے جالنا شہر میں ہونے والے میونسپل کارپوریشن انتخابات میں ایک غیر معمولی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں آزاد امیدوار شری کانت پنگارکر نے کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ جیت اس لیے بھی خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کیونکہ شری کانت پنگارکر کا نام کئی سنگین فوجداری مقدمات میں سامنے آ چکا ہے، جن میں معروف صحافی اور سماجی کارکن گوری لنکیش کے قتل کا معاملہ بھی شامل ہے۔یاد رہے کہ گوری لنکیش کو 5 ستمبر 2017 کو کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں ان کی رہائش گاہ کے باہر نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں صحافت کی آزادی اور اظہارِ رائے کے تحفظ سے متعلق شدید بحث چھیڑ دی تھی۔ بعد ازاں اس قتل کیس کی تفتیش میں کئی افراد کے نام سامنے آئے، جن میں شری کانت پنگارکر کا نام بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ پنگارکر کا تعلق ممبئی کے قریب نالاسوپارہ میں اگست 2018 میں ہونے والی ایک بڑی کارروائی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ اس کارروائی میں مہاراشٹر اے ٹی ایس نے بڑی مقدار میں اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ممنوعہ اشیاء برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اے ٹی ایس کے مطابق اس معاملے میں شری کانت پنگارکر کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ وہ ریاست کے مختلف حصوں میں ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے مالی مدد فراہم کر رہے تھے۔تحقیقات کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ ضبط شدہ اسلحہ اور مواد ملک میں بدامنی پھیلانے کے مقصد سے جمع کیا گیا تھا۔ تاہم ان مقدمات کے باوجود شری کانت پنگارکر نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے قسمت آزمائی کی اور عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
سیاسی پس منظر پر نظر ڈالیں تو شری کانت پنگارکر اس سے قبل بھی بلدیاتی سیاست میں سرگرم رہ چکے ہیں۔ وہ 2001 سے 2011 کے درمیان دو مرتبہ جالنا میونسپل کونسل کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اورنگ آباد میں مقیم ہیں۔ان کی انتخابی کامیابی نے سیاسی حلقوں، سماجی کارکنوں اور عوام کے درمیان کئی سوالات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ زیرِ سماعت سنگین مقدمات کے باوجود عوامی نمائندگی کیسے ممکن ہو پاتی ہے۔ یہ معاملہ ایک بار پھر سیاست اور قانون کے باہمی تعلق پر بحث کو ہوا دے رہا ہے۔





