خبرنامہ

ایران مظاہرے: وزیر خارجہ اور عالمی میڈیا کے متضاد دعوے

ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق مختلف دعوؤں پر ایرانی حکومت اور بین الاقوامی اداروں کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ احتجاج کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سید عباس عراقچی نے واضح طور پر کہا کہ مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں بلکہ چند سو تک محدود ہے۔ ان کے مطابق بعض حلقے جان بوجھ کر اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ ایران کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کیا جا سکے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ بہت جلد حکومت کی جانب سے ہلاکتوں کا حتمی اور درست ڈیٹا جاری کیا جائے گا۔
دوسری جانب بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں ایرانی حکومت کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتیں۔ ان اداروں کا دعویٰ ہے کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں اب تک ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان تنظیموں کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی سخت کارروائیوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے، تاہم ایران میں آزادانہ تحقیقات کی اجازت نہ ہونے کے باعث درست اعداد و شمار کی تصدیق مشکل ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز نے مختلف ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد دو ہزار سے پانچ ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔ اسی طرح برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نے ایران کے اندر اور بیرونِ ملک موجود ذرائع کی بنیاد پر ہلاکتوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار بتائی ہے۔ سی بی ایس کے مطابق بعض اندازوں میں یہ تعداد بیس ہزار تک پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ادھر امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس نے اسرائیلی خفیہ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران تقریباً پانچ ہزار افراد مارے گئے ہیں۔ ان متضاد دعوؤں کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے اور ایران پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزاد مبصرین کو حقائق جانچنے کی اجازت دے۔مجموعی طور پر ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی اصل تعداد اب بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف ایرانی حکومت ان دعوؤں کو مسترد کر رہی ہے تو دوسری جانب عالمی ادارے اور میڈیا زیادہ بڑے جانی نقصان کی بات کر رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر