خبرنامہ

بلدیاتی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی خفیہ جنگ،نجی جاسوس متحرک

ممبئی اور مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات جوں جوں قریب آتے جا رہے ہیں، سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انتخابی فضا گرم ہونے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کی حکمتِ عملی بھی روایتی انداز سے نکل کر جدید اور خفیہ رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اب انتخابی میدان صرف جلسوں، جلوسوں، پوسٹروں اور سوشل میڈیا مہم تک محدود نہیں رہا، بلکہ پردے کے پیچھے ایک خاموش مگر مؤثر ’خفیہ کھیل‘ بھی جاری ہے، جس میں نجی جاسوسوں کا کردار نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔سیاسی حلقوں میں یہ بات زوروں پر ہے کہ کئی سیاسی پارٹیاں اور امیدوار اپنے حریفوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے پرائیویٹ جاسوسی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد مخالفین کی چالوں کو وقت سے پہلے سمجھنا، پارٹی کے اندر ممکنہ بغاوت کی نشاندہی کرنا اور یہ جاننا ہے کہ کون سا لیڈر وفاداری بدلنے کے موڈ میں ہے۔ اس کے علاوہ امیدواروں کی کمزوریوں، اندرونی اختلافات اور ذاتی معاملات تک معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ انتخابی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
بھارت کی پہلی خاتون جاسوس کے طور پر پہچانی جانے والی رجنی پنڈت کے مطابق، انتخابات کے دوران نجی جاسوسوں کی مانگ میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق نہ صرف ٹکٹ سے محروم ہونے والے ناراض رہنما بلکہ اپنی ہی پارٹی کے اندر جاری رسہ کشی سے پریشان افراد بھی ان سے رابطہ کرتے ہیں۔ جیسے ہی انتخابات کا اعلان ہوتا ہے، ایسے معاملات میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔سیاسی مقاصد کے لیے کی جانے والی ان خفیہ تحقیقات کی فیس بھی خاصی زیادہ ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کام کی نوعیت اور پیچیدگی کے لحاظ سے نجی جاسوسی ایجنسیاں پچاس ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک معاوضہ وصول کر رہی ہیں۔ ان تحقیقات میں امیدوار کا مکمل پس منظر کھنگالنا، سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھنا، قریبی رشتہ داروں اور معاونین کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا شامل ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ موبائل لوکیشن کی نگرانی، انتخابی مہم کے دوران امیدوار کے ساتھ خفیہ طور پر ایجنٹ تعینات کرنا، اور ذاتی یا پیشہ ورانہ زندگی سے متعلق حساس معلومات حاصل کرنا بھی ان مشنز کا حصہ بتایا جاتا ہے۔جیسے جیسے بلدیاتی انتخابات قریب آ رہے ہیں، یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ خفیہ جنگ بھی اب انتخابی سیاست کا ایک اہم جز بن چکی ہے۔ اگرچہ عام ووٹر اس سے بے خبر رہتا ہے، لیکن سیاسی بساط بچھانے اور اقتدار کی سمت طے کرنے میں نجی جاسوسوں کا کردار خاموشی سے بڑھتا جا رہا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر