آئی۔پیک تفتیش: ای ڈی اور ممتا بنرجی آمنے سامنے
ای ڈی نے آئی۔پیک کیس میں ممتا بنرجی پر تفتیش میں مداخلت کا الزام لگا کر سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سیاسی مشاورتی ادارے آئی۔پیک سے متعلق ایک معاملے میں مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ای ڈی کی جانب سے دائر کی گئی اس عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایجنسی کی جاری تفتیش میں مداخلت کی اور اسے اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی کوشش کی۔ای ڈی کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سیاسی کنسلٹنسی کمپنی آئی۔پیک کے کولکاتا دفتر اور اس کے شریک بانی پرتیک جین کے دفتر سے جڑا ہوا ہے، جہاں ایجنسی ایک تلاشی مہم چلا رہی تھی۔ اسی دوران وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی اچانک وہاں پہنچ گئیں، جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے۔ ای ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کی موجودگی اور ان کے بیانات کی وجہ سے تفتیشی عمل متاثر ہوا۔
ای ڈی نے سپریم کورٹ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ وہ وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی اور ریاستی حکام کو ہدایت دے کہ وہ آئی۔پیک کے خلاف جاری تحقیقات میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں۔ ایجنسی کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی آئینی عہدے پر فائز شخص کو تفتیش میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی نے ای ڈی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتیشی ایجنسی نے ان کی جماعت ترنمول کانگریس سے متعلق اہم دستاویزات، ہارڈ ڈسکس اور حساس ڈیٹا ضبط کرنے کی کوشش کی، جو غیر قانونی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای ڈی مرکزی حکومت کے دباؤ میں کام کر رہی ہے اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے اس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ جمعرات، 8 جنوری کو پیش آیا جب ای ڈی کی ٹیم آئی۔پیک کے کولکاتا دفتر میں تلاشی لے رہی تھی۔ وزیرِ اعلیٰ کے اچانک وہاں پہنچنے سے نہ صرف سیاسی ہلچل مچ گئی بلکہ اس معاملے نے قانونی شکل بھی اختیار کر لی۔اب اس پورے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہونا باقی ہے، جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا تفتیش میں واقعی مداخلت ہوئی یا نہیں۔ اس کیس پر پورے ملک کی نظریں جمی ہوئی ہیں کیونکہ اس کے سیاسی اور قانونی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔





