اب تو یہی زندگی ہے
ودود ساجد
ایڈیٹر :روزنامہ انقلاب
یہ سوال انتہائی اہم ہوگیا ہے کہ کیاعمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دے کر سپریم کورٹ نے فرد کی شخصی آزادی کے سلسلہ میں تمام آئینی تحفظات ‘ قانونی التزامات اور خود اپنی ہی قائم کردہ حدود کو روند نہیں ڈالا ہے؟ وسیع تناظر میں اس سے بھی زیادہ بڑا سوال سیاسی اختلاف رائے کے آئینی اور بنیادی حق پر کھڑا ہوگیا ہے۔ اس فیصلہ نے بالواسطہ طور پر ایک ہی جھٹکے میں حکومت سے اختلاف رائے کے آئینی حق کو جرم بنا دیا ہے۔
سپریم کورٹ کی اس دو رکنی بنچ میں جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا شامل تھے۔ اول الذکر سپریم کورٹ میں آنے سے پہلے گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ جسٹس این وی انجاریا تو گجرات ہائی کورٹ کیڈر سے ہی آئے ہیں اور سپریم کورٹ میں آنے سے پہلے وہ بھی کچھ دنوں کیلئے گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔اس سے پہلے 2023 میں عمر خالد کی ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ کی جس دو رکنی بنچ کے سامنے زیر غور تھی اس کی قیادت جسٹس بیلا ایم ترویدی کر رہی تھیں۔ وہ بھی گجرات ہائی کورٹ سے ہی آئی تھیں۔ ان کی بنچ میں 11 مرتبہ سماعت ملتوی ہوئی اور آخر کار فروری 2024 میں وکلاء نے ہی یہ کہہ کر درخواست واپس لے لی کہ صورتحال بدل گئی ہے اور اب ہم اپنا مقدر ٹرائل کورٹ میں آزمائیں گے۔
عمر خالد اور شرجیل امام پچھلے پانچ سال سے زیادہ عرصہ سے انتہائی سخت قانون ’یواے پی اے‘ کی مختلف دفعات کے تحت جیل میں ہیں۔ ان دفعات کے تحت نہ صرف یہ کہ ضمانت حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے بلکہ بجائے اس کے کہ پولیس ان کا گناہ ثابت کرے‘ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی ملزمین کی ہوجاتی ہے۔ عمر خالد پر ایک الزام یہ ہے کہ وہ سی اے اے کے خلاف عوامی احتجاج کے دوران 2020 میں مشرقی دہلی میں رونما ہونے والے فسادات کی وسیع تر سازش میں شامل تھا۔ جبکہ اس کے وکلاء کا کہنا ہے کہ فسادات کے دوران عمر خالد دہلی میں تھا ہی نہیں۔
مختلف مظاہروں میں کی جانے والی اس کی تقریروں میں فسادات کیلئے اکسانے کا بھی کوئی شائبہ تک نہیں ملتا۔ لیکن حکومت اور پولیس کا الزام ہے کہ اس کی تقریریں فسادات کو بھڑکانے کا سبب بنیں۔ ان میں سے کچھ تقریریں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران بھی تفصیل کے ساتھ پیش کی گئیں۔ اس کے وکلاء نے دہلی فسادات کے دوران اس کے دہلی میں نہ ہونے کا ثبوت پیش کیا لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ نے ان دونوں کو ضمانت نہیں دی اور دوسرے پانچ رضاکاروں کو ضمانت دیدی۔ اس واقعہ کے بعد عمر خالد نے جو کچھ کہا وہ تاریخ میں ہمیشہ کیلئے درج ہوگیا۔ اس نے کہا کہ:’’ اب تو یہی زندگی ہے‘‘۔
عمر خالد اپنے اہل خانہ کیلئے ایک فرد نہیں پوری دنیا ہے۔ اس گھر کی دنیا فی الحال تو اجڑی ہوئی ہے۔ عمر خالد نے جو کچھ کہا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ پوری ایک قوم کے احوال کی بھرپور عکاسی ہے۔ اس ملک کا نظامِ عدل دو متوازی خطوط پر چل رہا ہے۔ ٹرائل کورٹ میں ابھی مقدمہ شروع ہی نہیں ہوا۔ گواہوں کے بیانات مکمل نہیں ہوئے۔ چارج شیٹ دائر نہیں ہوئی۔ ستمبر 2025 میں دہلی ہائی کورٹ نے بھی عمر خالد کی ضمانت کی درخواست کو ایک تفصیلی مگر انتہائی متنازعہ فیصلہ کے تحت مسترد کردیا تھا اور اب جنوری 2026 میں سپریم کورٹ نے بھی اسی طرز پر بلکہ اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ منفی اسباب پیش کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔ ایک دلچسپ مگر مضحکہ خیز نکتہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک سال کے بعد ضمانت کیلئے آنے کی مہلت دے کر دراصل مزید ایک سال تک دونوں کی ضمانت کے امکان کو ختم کردیا ہے۔
سپریم کورٹ میں چار دہائیوں تک قانونی خدمات انجام دینے کے بعد معروف وکیل دشینت دوے نے اب یہ پیشہ چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے متعدد انٹرویوز میں اعتراف کیا ہے کہ وہ موجودہ طرز انصاف سے مایوس ہیں اور اسی سے دلبرداشتہ ہوکر انہوں نے وکالت چھوڑی ہے۔ سپریم کورٹ کے زیر بحث فیصلہ پر انہوں نے سخت رائے کا اظہار کیا ہے۔ ’دی وائر‘ کیلئے کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’یہ فیصلہ پوری طرح غلط اور حقائق اور قانون کے اعتبار سے ناقص ہے‘ ججوں نے فیصلہ میں وجوہات بیان کرتے ہوئے متعدد سنگین غلطیاں کی ہیں اور یہ فیصلہ خود سپریم کورٹ کی توہین ہے‘‘۔ دشینت دوے نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلہ کے خلاف ’کیوریٹو پٹیشن ‘دائر کرکے اس پر نظرثانی کیلئے پانچ ججوں کی بنچ کی تشکیل کا مطالبہ کیا جانا چاہئے جس میں موجودہ دو ججوں کے علاوہ سپریم کورٹ کے تین سب سے سینئر جج بھی شامل ہوں۔
دشینت دوے نے کہا کہ دوججوں کی بنچ نے خود سپریم کورٹ کی ہی ماضی کی متعدد رولنگ کو نظر انداز کردیا جن میں بار بار کہا گیا ہے کہ ضمانت اصول ہے اور جیل استثنا ہے۔ ججوں نے حکومت کے پیش کردہ مواد پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا اور اس حقیقت کو نظر انداز کردیا کہ ملزمین کسی ٹرائل کے بغیر پانچ سال سے جیل میں ہیں۔ انہوں نے ایک سنگین الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ صرف اسی معاملہ میں نہیں بلکہ ملک میں عمومی طور پر اب جج ملزمین کو ضمانت دیتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ماہرین قانون نے اس پر بھی سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ نے ضمانت کے تعلق سے پہلے اتنی لمبی سماعت کی اور پھر فیصلہ کو محفوظ رکھ کر کم و بیش 25 دن بعد فیصلہ سنایا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ضمانت کی درخواست مسترد کرنی تھی تو ایک سرسری سماعت کے بعد کی جاسکتی تھی لیکن تفصیلی سماعت اور پھر تفصیلی فیصلہ صادر کرنا معمول سے ہٹ کر ہے۔
سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ اسعد علوی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے حالیہ متعدد فیصلوں میں ایسی نظیریں موجود ہیں کہ جب عدالت نے ای ڈی‘ یو اے پی اے اور ایم پی ایم ایل اے ایکٹ کے تحت ماخوذ ملزمین کو ضمانتیں دی ہیں۔ جسٹس سنجے کشن کول کا فیصلہ اس سلسلہ میں مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ اسعد علوی کا کہنا ہے کہ سزا یافتگان تک کو دس سال جیل میں رہنے کے بعد ضمانت مل جاتی ہے اور محض تقریروں کی بنیاد پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ قائم کرنا ہی غلط ہے۔
یہ واضح رہنا چاہئے کہ ضمانت کے تعلق سے سب سے پہلے 1977 میں سپریم کورٹ نے راجستھان بنام بال چند کے مقدمہ میں کہا تھا کہ ضمانت ایک اصول اور ایک معمول ہے جبکہ جیل استثناء ہے۔ اس کے بعد سے آج تک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں متعدد مرتبہ اس اصول کو نہ صرف دوہرایا گیا بلکہ اس کی بنیاد پر یو اے پی اے اور ایم پی ایل اے کے تحت ماخوذ ملزموں کو ضمانتیں ملتی رہی ہیں۔ حالیہ دنوں کی بڑی مثال دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کی پیش کی جاسکتی ہے جنہیں اسی اصول کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے 17 مہینے کے بعد ضمانت پر رہا کردیا تھا۔
یہ عنصر بھی پولیس اور حکومت کی نیت کو سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ عمر خالد کے خلاف 900 گواہوں کے نام پیش کئے گئے تھے۔ جب عدالت میں وکلاء دفاع نے گواہوں کی اتنی بڑی غیر معمولی تعداد پر اعتراض کیا اور پوچھا کہ 900 گواہوں کی گواہی آخر کب تک پوری ہوگی تو پولیس نے کہا کہ اب گواہوں کی تعداد محض 155 کردی گئی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ابھی تک محض 58 گواہوں کے بیانات ہی سیکشن 164 کے تحت درج کئے جاسکے ہیں۔97 گواہ اب بھی باقی ہیں۔ کیا اسی رفتار سے چلنے والی کارروائی کی روشنی میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگلے پانچ سال میں باقی ماندہ گواہوں کی گواہی مکمل ہوجائے گی؟
ستمبر 2025 میں دہلی ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے عمر خالد اور دوسرے نوجوانوں کی درخواست ضمانت یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ بیان کردہ جرائم میں ان تمام کے ملوث ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کے سوا باقی سب کو ضمانت دیدی۔ اس ضمن میں درجنوں ماہرین قانون اور سابق جج کھلے طور پر کہہ رہے ہیں کہ عمر خالد اور شرجیل امام کو فی الواقع ضمانت دینی ہی نہیں تھی۔ اگر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے اس طرح کے نتائج اخذ کئے جارہے ہیں تو عدلیہ کیلئے یہ کوئی عزت و وقار کی بات نہیں ہے بلکہ عدلیہ کیلئے یہ صورتحال خطرہ کی گھنٹی اور بیدار ہونے کی متقاضی ہے۔ ہمارا آئین شخصی آزادی پر حد سے زیادہ زور دیتا ہے اور اس آئین کا اور ہر فرد کی شخصی آزادی کا تحفظ عدلیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر سپریم کورٹ سے ہی ایسے خطرناک اشارے ملیں تو یہ تو ہماری عظیم جمہوریت کیلئے بھی انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔
جسٹس اروند کمار کی قیادت والی بنچ نے تو’چکہ جام‘ کے منصوبہ کو ’دہشت گردانہ عمل‘ کے مماثل جرم قرار دے کر عملاً سیاسی اختلاف رائے کے اظہار کو بھی جرم بنا دیا ہے۔ اس فیصلہ نے سیاسی اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف یو اے پی اے کے استعمال اور اس کے تحت ماخوذ افراد کو بغیر مقدمہ چلائے برسوں جیل میں رکھنے کو بھی عملاً جائز قرار دیدیا ہے۔ یو اے پی اے پہلے ہی کوئی کم خطرناک اور کم سیاہ قانون نہیں تھا۔ لیکن جسٹس اروند کمار کی بنچ نے اسے مزید خطرناک اور سیاہ ترین بناکر اس کی ہیبت ناکی کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے۔
حیرت اس امر پر ہے کہ محض ضمانت کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ نے ایک قسم کا ’ٹرائل‘ ہی کرڈالا۔ جسٹس اروند کمار کا فیصلہ کہتا ہے کہ “اس حقیقت کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی کہ شرجیل امام مشرقی دہلی میں فسادات رونما ہونے سے ایک مہینہ پہلے ہی سے حراست میں تھا کیونکہ سازش تو دسمبر 2019 میں ہی شروع ہوگئی تھی جب اس نے سی اے اے مخالف مظاہروں کیلئے لوگوں کو اکٹھا کیا تھا۔” عمر خالد کے تعلق سے تو سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اور بھی حیرت انگیز نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ایک ’تحفظ یافتہ‘ گواہ کے اس بیان پر اعتماد کرلیتا ہے کہ ’’دسمبر 2019 میں ایک میٹنگ میں عمر خالد نے ’چکہ جام‘ اور ’دھرنے‘ کا فرق بیان کیا تھا‘‘۔ سپریم کورٹ نے دفاعی وکلاء کی کوئی دلیل قبول نہیں کی لیکن پولیس اور حکومت کی ہر دلیل قبول کرلی۔ اس عمل کا جواز یہ کہہ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی کہ ضمانت کے مرحلہ پر صرف الزامات کی سنگینی پر غور کیا جاتا ہے۔
میں نے پچھلی چار دہائیوں میں قانونی خبروں ‘ فیصلوں اور ان کے جائزوں سے جو کچھ سیکھا ہے اس کی روشنی میں بلاتکلف کہا جاسکتا ہے کہ میرا یہ موقف درست ہے کہ ’’اس ملک کا نظام عدل دو متوازی خطوط پر چل رہا ہے ‘‘۔ ایسا نہ ہوتا توکھلے طور پر’گولی مارو سالوں کو‘ کہنے والے اور سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو پولیس کے سامنے سبق سکھانے کی دھمکیاں دینے والے بھی سلاخوں کے پیچھے ہوتے۔
ایسے واقعات اور ایسے کھلے زہریلے شرپسندوں کے خلاف تو ایف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی اور اگر کپل مشرا جیسوں کے خلاف جسٹس مرلی دھر جیسے جرات مند اور دیانتدار جج مقدمہ قائم کرنے کا حکم دیتے ہیں تو ان کا تبادلہ کردیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں عدلیہ کا دفاع کرنے والے ہم جیسے لوگ‘ مظلوموں کو یہ کہنے سے کیسے روک سکتے ہیں کہ اب انصاف ختم ہوگیا ہے۔
(وال سے)





