عمر خالد، شرجیل امام کی ضمانت پر اویسی کے سخت سوالات
او یسی نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ ملنے پر سوال اٹھاتے ہوئے عدالتی فیصلوں میں تضاد کی نشاندہی کی۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد سے رکنِ پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے دہلی فسادات سے جڑے مقدمات میں ملزمان عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ ملنے پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے میں عدالتی رویے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف مقدمات میں ضمانت کے فیصلوں میں واضح فرق نظر آتا ہے۔خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ یہ بات چونکا دینے والی ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہیں دی گئی، جبکہ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ نے دیگر سنگین مقدمات میں ملزمان کو ضمانت دی ہے۔ اویسی کے مطابق ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے امٹیک گروپ کے چیئرمین اروِند دھام کو ضمانت دی ہے، جن کے خلاف منی لانڈرنگ روک تھام ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔ عدالت نے انہیں آئین کے آرٹیکل 21، یعنی زندگی اور شخصی آزادی کے حق کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت دی۔
اسدالدین اویسی نے مزید کہا کہ ایک اور مثال کیلاش رام چندانی کی ہے، جن پر نکسلی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ ان کی مبینہ سرگرمیوں کے سبب ایک آئی ای ڈی دھماکے میں 15 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اویسی کے مطابق، عدالت نے اس بنیاد پر رام چندانی کو ضمانت دی کہ ان کے مقدمے میں تیز رفتار سماعت نہیں ہو سکی۔اویسی نے کہا کہ منی لانڈرنگ روک تھام قانون بھی یو اے پی اے کی طرح ایک سخت قانون سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام جیسے ملزمان کو جو طویل عرصے سے جیل میں ہیں، ضمانت کیوں نہیں دی گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ ضمانت کے معاملات میں یکساں اصول اپنایا جانا چاہیے تاکہ انصاف پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے 5 جنوری کو دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق مقدمے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ صرف اس بنیاد پر ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ ملزمان پانچ برس سے جیل میں ہیں اور ابھی تک ان کے خلاف باقاعدہ ٹرائل شروع نہیں ہوا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ مقدمے کی نوعیت، الزامات کی سنگینی اور دستیاب شواہد کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے اور مختلف رہنما عدالتی فیصلوں پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ اویسی کا بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے، جس نے ایک بار پھر ضمانت اور انصاف کے معیارات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔





