جے این یومیں نعروں کے معاملے پروی ایچ پی اورانتظامیہ کا سخت موقف
جے این یو میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف نعروں پر وی ایچ پی کا احتجاج، قانونی کارروائی اور سخت تادیبی اقدامات کا مطالبہ۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف نعرے لگانے کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس معاملے نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے جو یونیورسٹی کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وشو ہندو پریشد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جے این یو جیسے معتبر تعلیمی ادارے کی وقار کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ملک کے وزیر اعظم اور دیگر اہم شخصیات کے خلاف نازیبا اور اشتعال انگیز نعرے لگانا نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ یہ ادارے کی تعلیمی فضا کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ وی ایچ پی نے دعویٰ کیا کہ اس بار ان نعروں کی وجہ دہلی فسادات کے ملزمان عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ ملنا بتائی جا رہی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ استغاثہ کے پاس دونوں ملزمان کے خلاف فسادات میں مبینہ شمولیت سے متعلق ٹھوس اور قابلِ تصدیق شواہد موجود ہیں۔ ایسے میں مناسب رویہ یہی ہے کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے اور ٹرائل کے نتیجے کا انتظار کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ وی ایچ پی کے مطابق کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے۔وشو ہندو پریشد نے اسے بدقسمتی قرار دیا کہ چند افراد نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کے بجائے رات کے وقت یونیورسٹی کیمپس میں ہنگامہ آرائی کی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ عمل شرمناک اور بزدلانہ ہے۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کروا دی ہے اور اب مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
دوسری جانب جے این یو انتظامیہ نے بھی ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف متنازع نعروں کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس واقعے میں ملوث طلبہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی، جس میں فوری معطلی، اخراج یا مستقل طور پر یونیورسٹی سے نکالے جانے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پیر کی رات طلبہ کے ایک گروہ نے مبینہ طور پر کیمپس کے اندر نعرے لگائے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی اور اس کے بعد یہ معاملہ بحث کا موضوع بن گیا۔ یونیورسٹی اور متعلقہ ادارے اب اس معاملے کی جانچ میں مصروف ہیں۔





