خبرنامہ

بیجاپور سُکما جھڑپیں، چودہ ماؤ نواز ہلاک، سرچ آپریشن جاری

چھتیس گڑھ کے ماؤوادسے متاثرہ اضلاع بیجاپور اور سُکما میں سکیورٹی فورسز اور مبینہ ماؤ نوازوں کے درمیان ہونے والی دو الگ الگ جھڑپوں میں کم از کم 14 ماؤ نوازوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے امکان کو فی الحال مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ سرچ آپریشن بدستور جاری ہے اور بعض علاقوں میں رسائی مشکل ہے۔بستر رینج کے انسپکٹر جنرل پولیس سندر راج پی کے مطابق جنوبی بیجاپور اور سُکما کے جنگلاتی علاقوں میں مسلح ماؤ نوازوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز نے ایک بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔ اس آپریشن کے تحت جنوبی بستر کے مختلف علاقوں میں ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ کی ٹیمیں روانہ کی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ بیجاپور ضلع میں صبح تقریباً پانچ بجے ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ اور ماؤ نوازوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا، جو کچھ دیر تک جاری رہا۔ اسی طرح سُکما ضلع میں بھی صبح تقریباً آٹھ بجے سکیورٹی فورسز اور نکسلیوں کے درمیان فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد علاقے میں الرٹ جاری کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران اب تک جھڑپ کے مقامات سے مجموعی طور پر 14 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ ان میں سے دو لاشیں بیجاپور ضلع سے جبکہ بارہ لاشیں سُکما ضلع سے ملی ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان لاشوں کے قریب سے بڑی مقدار میں اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے، جس میں اے کے 47 رائفلیں، انساص رائفلیں، ایس ایل آر اور دیگر خودکار ہتھیار شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ برآمد شدہ اسلحہ کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ادھر ایک علیحدہ پیش رفت میں چھتیس گڑھ کے معروف ماؤ نواز رہنما دیوا بارسے نے تقریباً 20 دیگر ماؤ نوازوں کے ساتھ حیدرآباد میں خود سپردگی اختیار کر لی ہے، جس کی تصدیق تلنگانہ پولیس نے کی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق خود سپردگی کرنے والوں سے تفتیش جاری ہے اور ان کی بحالی کے لیے سرکاری پالیسی کے تحت اقدامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران چھتیس گڑھ میں ماؤ نوازوں کے خلاف پولیس اور نیم فوجی دستوں نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں تیز کی ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے اس سال 31 مارچ تک ملک سے ماؤ نواز تحریک کے خاتمے کی ڈیڈ لائن مقرر کیے جانے کے بعد ان آپریشنز میں مزید شدت آئی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں صرف بستر کے علاقے میں 99 مختلف جھڑپوں کے دوران 256 ماؤ نواز مارے جا چکے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں ان دعوؤں کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر