الیکشن کمیشن ملاقات کے بعد ابھیشیک بنرجی کا سخت بیان
الیکشن کمیشن ملاقات ابھیشیک بنرجی نے ایس آئی آر، بنگال اور بی جے پی پر عدم وضاحت دعویٰ کیا۔
ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملاقات کے دوران مجموعی طور پر دس اہم نکات پر بات چیت کی گئی۔ ان کے مطابق ان نکات میں مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کا معاملہ بھی شامل تھا، جس پر پارٹی نے اپنے تحفظات واضح طور پر رکھے۔ابھیشیک بنرجی نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے حکام کے ساتھ تقریباً ڈھائی گھنٹے طویل گفتگو ہوئی، تاہم اس کے باوجود کسی بھی مسئلے پر انہیں کوئی واضح یا ٹھوس جواب نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے سوالات اٹھائے، دلائل پیش کیے اور عوامی خدشات کو سامنے رکھا، لیکن کمیشن کی جانب سے تسلی بخش وضاحت نہیں دی گئی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال کے عوام کی سوچ اور مزاج دوسرے علاقوں سے مختلف ہے۔ ان کے بقول بنگال کے لوگ دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی کے سامنے جھکنے کا مزاج رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی پوری طاقت، سرکاری مشینری اور مختلف ایجنسیوں کا استعمال بھی کر لے، تب بھی بنگال کے عوام اپنے حق کے لیے ڈٹے رہیں گے اور ریاست میں جیت انہی کی ہوگی۔انہوں نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی 2012، 2021 اور 2024 میں بھی ناکام ہو چکی ہے اور 2026 کے انتخابات میں بھی اسے اسی طرح شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ابھیشیک بنرجی کے مطابق بنگال میں عوامی حمایت ترنمول کانگریس کے ساتھ ہے اور یہی طاقت پارٹی کا سب سے بڑا سہارا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترنمول کانگریس صرف عوام کے سامنے جواب دہ ہے اور وہ عوام کی طاقت کے سامنے ہی جھکے گی، نہ کہ اقتدار میں بیٹھے افراد یا اداروں کے دباؤ کے سامنے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جمہوریت کی اصل روح ہے۔ابھیشیک بنرجی نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی پارٹی کے رہنما الیکشن کمیشن سے ملاقات کر چکے ہیں اور اس وقت کمیشن کے سامنے پانچ اہم سوالات رکھے گئے تھے۔ ان کے مطابق افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک ان سوالات میں سے کسی ایک کا بھی واضح اور درست جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری نبھائے اور شفافیت کے ساتھ تمام خدشات کا ازالہ کرے، تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہ سکے۔





