خبرنامہ

زیلنسکی نے پوتن کی رہائش پر ڈرون حملے کا الزام مسترد کردیا

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کی جانب سے لگائے گئے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ایک سرکاری رہائش گاہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا۔ زیلنسکی نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو ایسے بیانات کے ذریعے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور جنگ جاری رکھنے کا جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین نے رات کے وقت طویل فاصلے تک مار کرنے والے 91 بغیر پائلٹ ڈرونز کے ذریعے روس کے شمال مغربی علاقے نووگورود میں واقع صدر پوتن کی سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کیا۔ روسی حکام کے مطابق یہ تمام ڈرونز روسی فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیے، اور اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
تاہم صدر زیلنسکی نے ان دعوؤں کو “روایتی روسی پروپیگنڈا” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس اس طرح کے الزامات لگا کر عالمی برادری کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اور یوکرین پر اپنے حملوں کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ زیلنسکی نے یاد دلایا کہ ماضی میں روس خود کیئو میں سرکاری عمارتوں اور شہری علاقوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا خاموش نہ رہے۔ ان کے مطابق عالمی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ روس کے ایسے الزامات پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اور اگر اس رویے کو روکا نہ گیا تو امن کے امکانات مزید کمزور ہو جائیں گے۔


دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے بعد امن مذاکرات میں اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور کرے گا۔ لاوروف نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ کیئو حکومت ریاستی دہشت گردی کی پالیسی اپنا چکی ہے، جس کے باعث روس کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑ سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ روس امریکہ کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل سے علیحدہ ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔یہ تمام صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اتوار کے روز فلوریڈا میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نظرثانی شدہ امن منصوبے پر گفتگو کی۔ زیلنسکی کے مطابق امریکہ نے یوکرین کو آئندہ 15 برس کے لیے سکیورٹی ضمانتیں دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس نکتے پر معاہدہ تقریباً حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر