خبرنامہ

نیوزی لینڈ وزیر خارجہ کا بھارت فری ٹریڈ معاہدہ تنقید کا شکار

نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے حال ہی میں اعلان کیے گئے بھارت نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ نہ تو حقیقی معنوں میں ’’آزاد‘‘ ہے اور نہ ہی ’’منصفانہ‘‘، بلکہ اس سے نیوزی لینڈ کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔بھارت کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر بات چیت 22 دسمبر 2025 کو مکمل ہوئی تھی۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانا اور درآمد و برآمد میں سہولت فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ تاہم اس اعلان کے فوراً بعد نیوزی لینڈ کی سیاست میں اس پر اختلافات سامنے آ گئے۔
نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز جو دائیں بازو کی سیاسی جماعت ’’نیوزی لینڈ فرسٹ‘‘ کے سربراہ بھی ہیں، نے اس معاہدے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ ان کی جماعت اس وقت نیشنل پارٹی کے ساتھ اتحاد میں حکومت کا حصہ ہے، مگر اس کے باوجود انہوں نے اس تجارتی سمجھوتے کو ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ونسٹن پیٹرز نے 22 دسمبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ بدقسمتی سے نیوزی لینڈ فرسٹ بھارت کے ساتھ اعلان کردہ آزاد تجارتی معاہدے کی حمایت نہیں کرتی۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ نیوزی لینڈ کے لیے ایک خراب سودا ہے، کیونکہ اس میں خاص طور پر امیگریشن کے شعبے میں بہت زیادہ رعایتیں دی گئی ہیں، جبکہ بدلے میں نیوزی لینڈ کے عوام کو خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت نے اپنے اتحادیوں کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ بھارت کے ساتھ کسی جلد بازی میں طے کیے گئے معاہدے سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کسی معاہدے کے لیے پارلیمنٹ میں اکثریت کی حمایت یقینی نہ ہو، تو ایسی ڈیل پر دستخط کرنا دانشمندی نہیں۔ونسٹن پیٹرز نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس۔ جے شنکر سے طویل عرصے سے شناسائی ہے اور وہ انہیں ایک تجربہ کار عالمی رہنما اور نیوزی لینڈبھارت تعلقات کے حامی کے طور پر احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اس معاملے پر نیوزی لینڈ فرسٹ کا مؤقف وزیرِ خارجہ جے شنکر کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی سمت دینے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم نیوزی لینڈ کے اندرونی سیاسی اختلافات اس معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہے ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر