کلکتہ میں بنگلہ دیشی واقعے پر احتجاج، پولیس کارروائی سے حالات کشیدہ
کلکتہ میں بنگلہ دیشی واقعے کے خلاف ہندو تنظیموں کا احتجاج، پولیس سے جھڑپ، لاٹھی چارج، گرفتاریاں، ٹریفک متاثر، صورتحال قابو میں رہی۔
ں منگل کے روز اُس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب وشو ہندو پریشد، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد اور ہندو جاگرن منچ سمیت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ مختلف تنظیموں کے کارکنان نے بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ یہ دفتر شہر کے بیک باغان اور پارک سرکس کے آس پاس کے علاقے میں واقع ہے، جہاں بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہو گئے تھے۔یہ احتجاج بنگلہ دیش کے ضلع میمن سنگھ میں دیپو چندر داس نامی نوجوان کی مبینہ اجتماعی پٹائی اور بعد ازاں اس کی موت کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دیپو چندر داس کے ساتھ ہونے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس پر بنگلہ دیشی حکام کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ احتجاج کرنے والے کارکنان بنگلہ دیشی حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے اور مطالبہ کر رہے تھے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہو۔
ابتدا میں مظاہرین ایک جلوس کی شکل میں ڈپٹی ہائی کمیشن کے دفتر کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم پولیس نے سفارتی علاقے کی سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں راستے میں ہی روک دیا۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو بعد میں دھکم پیل میں تبدیل ہو گئی۔ حالات بگڑنے پر پولیس کو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔پولیس کے ایک سینئر افسر نے میڈیا کو بتایا کہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے اور کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم، وشو ہندو پریشد کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی کارروائی میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے ہیں اور یہ کہ لاٹھی چارج ایک پرامن احتجاج پر کیا گیا۔
احتجاج کے دوران درجنوں افراد کو حراست میں بھی لیا گیا، جن سے پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ صرف ایک یادداشت (میمرینڈم) پیش کرنے کے لیے جا رہے تھے، لیکن پولیس نے انہیں غیر ضروری طور پر روک دیا۔واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی مقامی رہنما بھی موقع پر پہنچ گئے۔ شمالی کولکتہ کے ضلع بی جے پی صدر تموگھن گھوش نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پولیس کی لاٹھی چارج کی کارروائی کے خلاف اور ہندو تنظیموں کے کارکنان کی حمایت میں وہاں موجود ہیں۔مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے باعث پارک سرکس اور آس پاس کے علاقوں میں کافی دیر تک ٹریفک متاثر رہا، جس سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں پولیس کی اضافی نفری اور انتظامی اقدامات کے بعد حالات بتدریج معمول پر آنے لگے۔





