بہار میں آوارہ کتوں کے بڑھتے مسئلے پر حکومتی منصوبہ
بہار میں آوارہ کتوں سے نمٹنے کو شیلٹر، نس بندی، ویکسین، ہیلپ لائن اور عوامی بیداری مہم شروع ہوگی۔
بہار میں شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے حملوں سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے ایک جامع اور مؤثر ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافے کے باعث عوام میں خوف و تشویش پائی جا رہی تھی، جس کے پیش نظر حکومت نے مستقل بنیادوں پر حل نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں دیہی علاقوں میں ڈاگ شیلٹر (کتے رکھنے کے مراکز) قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ آوارہ اور لاوارث کتوں کو منظم انداز میں رکھا جا سکے۔اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے پنچایتی راج محکمہ نے ریاست کی تمام ضلع پریشدوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں ڈاگ شیلٹر کی تعمیر کے لیے مناسب زمین کی نشاندہی کریں اور اسے جلد از جلد دستیاب کرائیں۔ محکمہ نے تمام اضلاع کے ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنروں کو بھی خط لکھ کر اس اسکیم پر فوری کام شروع کرنے کے احکامات دیے ہیں تاکہ عوام کو جلد راحت مل سکے۔
پنچایتی راج محکمہ کے انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشن افسر وینیت سنہا کے مطابق، ڈاگ شیلٹر کی تعمیر ضلع کے مویشی پروری افسر کی جانب سے تیار کردہ ڈیزائن اور تخمینہ لاگت کے مطابق کی جائے گی۔ ان شیلٹرز میں دیہی علاقوں سے پکڑے گئے اسٹریٹ ڈاگز اور بے سہارا کتوں کو رکھا جائے گا۔ اس منصوبے پر آنے والا تمام خرچ ششم ریاستی مالیاتی کمیشن کی جنرل فنڈ سے برداشت کیا جائے گا۔حکومت کی یہ اسکیم صرف کتوں کو پکڑنے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کے تحت آوارہ کتوں کی نس بندی، کیڑے مار ادویات کا استعمال، ریبیز سے بچاؤ کے ٹیکے اور دیگر حفاظتی ٹیکہ کاری بھی کی جائے گی۔ ان تمام طبی اقدامات کے لیے محکمہ حیوانات و ماہی پروری معیاری رہنما اصول اور طریقہ کار طے کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی ہر ضلع پریشد کی سطح پر ایک ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا جائے گا، جس کے ذریعے عوام آوارہ کتوں سے متعلق شکایات درج کرا سکیں گے۔
محکمہ پنچایتی راج نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ آوارہ کتوں کے مسئلے کے حل میں عوامی بیداری نہایت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے گرام پنچایت، پنچایت سمیتی اور ضلع پریشد کی سطح پر وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ وارڈ سبھا اور گرام سبھا کی میٹنگوں میں اس مسئلے کو اہم ایجنڈے کے طور پر شامل کیا جائے گا۔عوام سے اپیل کی جائے گی کہ شادی بیاہ، تہواروں اور دیگر عوامی تقاریب میں بچا ہوا کھانا کھلے میں نہ پھینکیں بلکہ اسے مناسب اور صاف طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ اس کے ساتھ کچرا نظم و نسق کو بھی مضبوط بنایا جائے گا تاکہ آوارہ کتوں کی افزائش کے بنیادی اسباب پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔





