بھوانی پور میں ووٹر فہرست سے ہزاروں نام خارج، ممتا بنرجی برہم
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد بھوانی پور اسمبلی حلقے سے ہزاروں ووٹروں کے نام خارج ہونے پر ممتا بنرجی نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے تحقیقات اور ووٹروں کی مدد کے لیے ہدایات جاری کیں۔
مغربی بنگال میں ایس آئی آرکے بعد ووٹر فہرست میں بڑے پیمانے پر نام خارج کیے جانے کا معاملہ سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ خاص طور پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بھوانی پور اسمبلی حلقے میں تقریباً پینتالیس ہزار ووٹروں کے نام حذف ہونے پر ترنمول کانگریس نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق بھوانی پور اسمبلی حلقے میں پہلے کل ووٹروں کی تعداد دو لاکھ چھ ہزار دو سو پچانوے تھی، لیکن تازہ جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں صرف ایک لاکھ اکسٹھ ہزار پانچ سو نو افراد کے نام شامل ہیں۔ اس طرح تقریباً چوالیس ہزار سات سو چھیاسی ووٹروں کے نام فہرست سے غائب ہو گئے ہیں۔ اس غیر معمولی کمی نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ریاستی سیاست میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھوانی پور کے بوتھ نمبر 260 پر خود وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ٹی ایم سی کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی ووٹ ڈالتے ہیں۔ اس بوتھ پر پہلے ووٹروں کی تعداد 270 تھی، مگر نئی ڈرافٹ فہرست میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 127 رہ گئی ہے، جس نے معاملے کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔منگل کے روز ریاستی سیکریٹریٹ سے واپسی کے بعد ممتا بنرجی نے پارٹی کے بوتھ لیول ایجنٹس (بی ایل اے) کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ اس اجلاس میں پارٹی کے ریاستی صدر سبرت بخشی، کولکاتا کے میئر فرہاد حکیم سمیت کئی سینئر رہنما موجود تھے۔ میٹنگ میں ممتا بنرجی نے ہدایت دی کہ بی ایل اے گھر گھر جا کر ان ووٹروں کی تصدیق کریں جن کے نام فہرست سے نکال دیے گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق، بھوانی پور کے اقلیتی اکثریتی 77 نمبر وارڈ میں سب سے زیادہ ووٹروں کے نام خارج کیے گئے ہیں، اس لیے پارٹی نے اس وارڈ پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ لیڈر کا کہنا تھا کہ ممتا بنرجی نے میٹنگ میں ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اپنے پولنگ اسٹیشن میں بھی کچھ زندہ افراد کو مردہ ظاہر کر کے ان کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ آخر زندہ ووٹروں کو مردہ قرار دے کر ان کے حقوق کیسے چھینے جا سکتے ہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر ممتا بنرجی نے ترنمول کانگریس کی جانب سے ہر محلے میں “مے آئی ہیلپ یو” کیمپ جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے تاکہ متاثرہ ووٹروں کو دوبارہ فہرست میں شامل کرانے میں مدد دی جا سکے۔
ادھرپارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی پہنچے ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے بھی الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک منتخب کونسلر کو بھی مردہ قرار دے دیا گیا، جو پوری انتخابی مشق کو مذاق بنانے کے مترادف ہے۔ ان کا سوال تھا کہ اگر یہ کارروائی گھس پیٹھیوں کو روکنے کے لیے تھی تو کیا ایک بھی گھس پیٹھیا سامنے آیا؟واضح رہے کہ منگل کو جاری کی گئی مغربی بنگال کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں مجموعی طور پر تقریباً اٹھاون لاکھ ووٹروں کے نام خارج کیے گئے ہیں، جس پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔





