قطب العالم حضرت شیخ محمدارشدعثمانی: حیات،علمی و روحانی خدمات
ابرار رضا مصباحی
قطب العالم ابی الکشف بدر الحق حضرت شیخ محمد ارشد عثمانی جون پوری(ولادت: ۱۰۴۱ھ-وفات:۱۱۱۳ھ) نصف گیارہویں صدی اور اوائل بارہویں صدی ہجری کے عظیم عالم و محقق، باکمال عارف و بزرگ اور ممتاز شیخ طریقت تھے۔ آپ کا اسم گرامی’’ محمد ارشد‘‘ اور لقب’’ بدر الحق‘‘و’’ قطب العالم ‘‘ہے۔آپ قطب الاقطاب حضرت شیخ محمدرشید عثمانی جون پوری قدس سرہ(بانی خانقاہ رشیدیہ) کے منجھلے فرزند ،خلیفہ وجانشیں اور خانقاہ رشیدیہ جون پور کے دوسرے سجادہ نشیں تھے ۔
آپ نے صرف ونحو،منطق و فلسفہ،فقہ و کلام ، حدیث و تفسیر وغیرہ علوم و فنون کی کتابیں شیخ عبد الشکور منیری ،شیخ محمد ولید عثمانی جون پوری،ملا نور الدین مداری جون پوری اور استاذ الملک شیخ محمد افضل جون پوری وغیرہ مختلف اساتذہ وفضلا سے پڑھیں اور دیگر علوم وفنون اورکتب ِتصوف اپنے والد ماجد شیخ محمد رشید عثمانی جون پوری سے پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔ تحصیلِ علم کے بعد آپ درس و تدریس میں مشغول ہو ئے ۔تلامذہ میں شیخ غلام رشید عثمانی جون پوری (مرتب گنج ارشدی)، شیخ فضل اللہ شہید پورنوی،میر سید محمد اسلم جعفری پٹنوی وغیرہ شامل ہیں۔
آپ اپنے والد بزرگ وار شیخ محمد رشید عثمانی جون پوری سے بیعت تھے اور ان کےوصال فرمانے کے بعد ان کے علوم ومعارف کے جانشیں ہوئے۔آپ کی ذات پر آپ کے شیخ کو بڑا ناز تھا۔ پٹنہ کے ایک بزرگ نے آپ کے شیخ کامل سے پوچھا کہ دوست جب دوست کے پاس جاتا ہے تو کچھ ہدیہ لےکر جاتا ہے، آپ جب خدا کے سامنے جائیں گے اور خدا نے پوچھ لیا کہ میرے واسطے کیا ہدیہ لائے ہوتو آپ کیا جواب دیں گے؟ اس پر آپ آب دیدہ ہوئے اور فرمایا:
’’میں محمد ارشد کے ہاتھ کو پکڑ کر بارگاہِ خداوندی میں پیش کردو ں گا کہ انہی کو تحفے میں لایا ہوں‘‘۔
آپ کی دوشادیاں ہوئی تھیں۔پہلی شادی شیخ مبار ک محی الدین بن نور اللہ انصاری ہروی کی صاحب زادی سے ہوئی جن کے بطن مبارک سے شیخ نوراللہ عثمانی ا ور شیخ ثناء اللہ عثمانی دو بیٹے پیدا ہوئے۔زوجۂ اولیٰ کے انتقال کے بعد دوسری شادی شیخ عبد اللطیف مٹھن پوری کی صاحب زادی سے ہوئی جن کے بطن مبارک سے دو بیٹے؛شیخ محب اللہ عثمانی اور شیخ محمد عثمانی اور تین بیٹیاں ہوئیں۔ ان میں شیخ محب اللہ کے ہی صاحب زادے مرتبِ گنج ارشدی شیخ غلام رشید عثمانی ہیں جو آگے چل کر اپنے جد محترم کے علوم ومعارف کے وارث و جانشیں ہوئے ۔
آپ ایک قادر الکلام شاعراور عظیم سخن ور بھی تھے۔ تخلص’’والہؔ‘‘تھا۔ آپ کی کئی تالیفات اور مکتوبات بھی ہیں جو قلمی اور غیر مطبوعہ ہیں۔’’ گنج ارشدی‘‘ آپ ہی کے ارشادات و ملفوظات اور علمی و تحقیقی افادات اور تصوف و احوالِ علما وصوفیہ پر ایک عظیم وقدیم دستاویز ہے ۔
آپ نے رشد و ہدایت اور تعلیم و تلقین کا کام بڑے پیمانے پر انجام دیا ۔ آپ نے مختلف خطوں کا دورہ کرکے لوگوں کے قلوب و اذہان کا تزکیہ فرمایا اور اخلاق وہدایت اور مروت و انسانیت کی تعلیم سے انھیں روشناس کیا۔آپ نےبڑے صاحبانِ فضل وکمال خلفا پیدا کیے جن میں میر سید محمد باقر پٹنوی،ملا شیخ محمد جمیل جون پوری( یکے از مرتبین فتاویٰ عالم گیری ،شیخ شکر اللہ جون پوری (جامعِ گنج ارشدی )، شیخ غلام رشید عثمانی جون پوری( مرتب ِگنج ارشدی)،میر سید محمد اسلم پٹنوی، شیخ حبیب اللہ منیری ،شیخ فضل اللہ شہید پورنوی، شیخ افضل الزماں وحدت ؔبنارسی ، ملا شیخ محمد ماہ دیوگامی،شاہ بدر الدین مچھلی شہری، میر سید شاہ منصور بنگالی ، شیخ عبد اللہ اڑیسوی ،شیخ محمد یحییٰ جون پوری، شیخ خیر اللہ جون پوری، شیخ فیض اللہ منیری، شیخ عطاء اللہ ناصحی ظفر آبادی،شیخ نور محمد دہلوی جیسے اصحابِ علم و تصوف شامل ہیں۔آپ کے خلفا اور چند باکمال مریدین کا تذکرہ گنج ارشدی جلد سوم میں ہے جو ان شاء اللہ جلد ہی اشاعت پذیرہو گی۔
آپ کا وصال۲۴؍جمادیٰ الاخریٰ۱۱۱۳ھ؍۲۵؍نومبر۱۷۰۱ء میں ہوا او راپنے والد گرامی اور شیخ کامل حضرت شیخ محمد رشید عثمانی جون پوری کے مزار کے پائینتی میں مدفون ہوئے۔ مزار پُر انوار آستانۂ عالیہ رشید آبادضلع جون پورمیں مرجع خلائق ہے۔






