خبرنامہ

سوشل میڈیا پر غلط معلومات روکنے کے لیے حکومت کا واضح اعلان

حکومتِ ہند نے کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (مڈل مین گائیڈ لائنز اور ڈیجیٹل میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ) رولز 2021 کا بنیادی مقصد شہریوں کو بااختیار بنانا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی گمراہ کن معلومات کا مؤثر سدباب کرنا ہے۔ حکومت کے مطابق ان قواعد نے سوشل میڈیا کمپنیوں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور آن لائن مواد فراہم کرنے والے اداروں کی ذمے داریوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ واضح اور سخت کردیا ہے۔یہ وضاحت راجیہ سبھا میں اُس وقت سامنے آئی جب اطلاعات و نشریات کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر ایل۔ موروگن نے ایک سوال کے جواب میں اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 19(1) شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی فراہم کرتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ حکومت پر یہ ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن سے عوام کو جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کے منفی اثرات سے بچایا جاسکے۔ ان کے بقول، سوشل میڈیا پر تیزی سے بڑھتی ہوئی غلط معلومات کے پیشِ نظر ریگولیٹری اقدامات ناگزیر ہوچکے تھے۔
حکومتی وضاحت کے مطابق، انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت 25 فروری 2021 کو جاری کیے گئے آئی ٹی رولز میں سوشل میڈیا انٹرمیڈیاریز کے لیے واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ ان رولز کے پارٹ II میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ فیس بک، یوٹیوب جیسے بڑے پلیٹ فارم غلط، فرضی یا گمراہ کن مواد کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہیں ایسی پوسٹس پر کارروائی کرنے کے ساتھ ایک مضبوط شکایتی نظام بھی قائم کرنا ہوگا تاکہ صارفین مسئلہ درپیش ہونے پر براہِ راست شکایت درج کرا سکیں۔حکومت نے پی آئی بی کی فیکٹ چیک یونٹ کا بھی ذکر کیا، جو نومبر 2019 میں اس مقصد کے لیے تشکیل دی گئی تھی کہ وہ مرکزی حکومت سے متعلق گردش کرنے والی مشتبہ یا فرضی خبروں کی جانچ کرے۔ یہ یونٹ متعلقہ وزارتوں سے تصدیق حاصل کرنے کے بعد عوام کو آگاہ کرتی ہے کہ کوئی دعویٰ درست ہے یا غلط۔ ضرورت پڑنے پر حکومت آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69A کا استعمال کرتے ہوئے ایسے اکاؤنٹس، ویب سائٹس یا مواد کو بلاک بھی کرسکتی ہے جو ملک کی سلامتی، خودمختاری یا امنِ عامہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں۔
ڈاکٹر موروگن نے یہ تمام تفصیلات بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور قومی نائب صدر ڈاکٹر لکشمی کانت بجپی کے سوال کے جواب میں بیان کیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قواعد اظہارِ رائے پر پابندی نہیں بلکہ صارف کے حقوق کے تحفظ اور غلط معلومات کے خلاف احتیاطی نظام کا حصہ ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر