پارلیمنٹ میں انتخابی اصلاحات: راہل گاندھی کا سخت ردعمل
راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں امت شاہ کے جوابات کو دفاعی قرار دیا، انتخابی اصلاحات اور شفافیت پر شدید تنقید کی۔
نئی دہلی: لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات اور شفافیت کے موضوع پر جاری بحث کے دوران کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے درمیان زبردست سیاسی جھڑپ دیکھنے کو ملی۔ راہل گاندھی نے مرکزی وزیر کے جوابات کو مکمل طور پر ڈِفینسیو قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے ان کے اٹھائے گئے اہم نکات پر کوئی واضح جواب نہیں دیا۔پارلیمنٹ میں بحث کے دوران کانگریس کے کئی ارکان نے احتجاجاً اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ راہل گاندھی نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی تھی، لیکن امت شاہ نے صرف ایک مثال لے کر جواب دینے کی کوشش کی، جو مکمل طور پر غیر تسلی بخش اور دفاعی تھا۔راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے شفاف ووٹر لسٹ کی فراہمی، ای وی ایم (الیکٹرانک ووٹنگ مشین) کے ڈیزائن اور آرکیٹیکچر کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کی ضرورت پر زور دیا، لیکن ان نکات پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کے کچھ رہنما ہرایانہ اور بہار میں ووٹ دے رہے ہیں، اس حوالے سے بھی حکومت نے کوئی وضاحت فراہم نہیں کی۔
راہل گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا کہ چیف الیکشن کمشنر (CJI) کو انتخابی کمیشن کے عمل میں شامل نہ کرنے کے فیصلے پر بھی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر نے الیکشن کمشنر کو تحفظ دینے اور سی سی ٹی وی فوٹیج نہ دینے کے بہانوں کو بھی ‘ہنسی خیز’ قرار دیا۔اس دوران راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امت شاہ نے ان کے تمام سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات شفافیت کے اصولوں کے برعکس ہیں اور انتخابی اصلاحات میں عوامی اعتماد پیدا کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بحث بھارت میں انتخابی شفافیت اور ووٹر اعتماد کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ کانگریس کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور مرکزی وزیر کے جوابات دونوں ہی مستقبل میں انتخابی اصلاحات پر جاری مباحثے میں اہم کردار ادا کریں گے۔اس واقعے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انتخابی اصلاحات اور ووٹنگ کی شفافیت کے مسائل اب بھی بھارت کی سیاست میں شدید بحث کا موضوع ہیں اور ان پر عوامی اور پارلیمانی سطح پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے۔





