خبرنامہ

ٹرمپ کا الزام، زیلینسکی کا جواب: یوکرین انتخابات کیلئے تیار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین اپنی داخلی سیاسی صورتحال سے نکلنے اور انتخابی عمل سے بچنے کے لیے جنگ کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان پر یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے نہ صرف سخت ردِعمل ظاہر کیا بلکہ واضح کیا کہ ان کا ملک انتخابات کرانے کے لیے پوری طرح تیار ہے، بشرطیکہ ضروری سیکیورٹی انتظامات کے لیے عالمی اتحادی ممالک مدد فراہم کریں۔زیلینسکی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اور یورپی اتحادی یوکرین میں ووٹنگ کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں تعاون کریں، تو اگلے ساٹھ سے نوّے دنوں کے اندر انتخابات منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے باوجود عوام کو یہ حق دیا جانا ضروری ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کا انتخاب کریں اور جمہوری عمل کو جاری رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں، یا وہ ملک کی قیادت کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، اسی وجہ سے جنگ ختم نہیں ہو رہی۔ زیلینسکی کے مطابق یہ نقطۂ نظر مکمل طور پر بے بنیاد، غیر ضروری اور یوکرین کے خلاف پروپیگنڈہ کا حصہ ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ وہ اقتدار میں رہنے کے لیے نہیں بلکہ ملک کی بقا اور عوام کی سلامتی کے لیے لڑ رہے ہیں۔زیلینسکی کا آئینی دورانیہ مئی 2024 میں ختم ہونا تھا، لیکن روسی حملے کے باعث ملک میں مارشل لا نافذ ہے، جس کی وجہ سے انتخابی سرگرمیاں مؤخر کر دی گئی تھیں۔ زیلینسکی 2019 کے انتخابات میں 73 فیصد سے زیادہ ووٹ لے کر بھاری اکثریت کے ساتھ صدر منتخب ہوئے تھے، اور ان کی جیت کو عالمی سطح پر ایک جمہوری فتح قرار دیا گیا تھا۔
ادھر ٹرمپ نے ’پولیٹیکو‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یوکرین کی سیاسی صورتحال پر متعدد تبصرے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین دنیا کے سامنے خود کو جمہوری ملک کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن جنگ کی موجودہ صورتحال میں وہ جمہوریت کا حقیقی عکس پیش کرنے میں ناکام ہے۔ ٹرمپ نے یوکرین کی حکومتی پالیسیوں اور سیاسی عمل پر سوالات اٹھائے جبکہ روس مسلسل یہ بیانیہ دہراتا رہا ہے کہ زیلینسکی ’غیر قانونی‘ طور پر صدر کے عہدے پر قائم ہیں۔ماسکو کی جانب سے کئی بار یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں نئے انتخابات شامل ہونا چاہییں۔ روسی حکام اس مؤقف پر قائم ہیں کہ یوکرین کی قانونی حیثیت اور قیادت کا فیصلہ نئے عوامی مینڈیٹ کے ذریعے ہونا چاہیے۔یوکرین کی حکومت ان تمام بیانات کو سیاسی دباؤ اور جنگی حالات کا فائدہ اٹھا کر ملک کی خودمختاری پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیتی ہے۔ زیلینسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین کے مستقبل کا فیصلہ صرف اس کے عوام کریں گے، اور دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جنگ کے باوجود جمہوریت ان کا بنیادی ہتھیار ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر