امریکی ویزا پالیسی میں تبدیلی، ڈیجیٹل اسکریننگ لازم قرار
امریکہ نے تمام ویزا درخواست گزاروں کی آن لائن سرگرمی کا جائزہ لازمی قرار دیا، اپائنٹمنٹ تاریخیں بدلنے کی ہدایات بھی جاری۔
امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اب تمام ویزا درخواست گزاروں کی جانچ مزید سخت کر دی گئی ہے، جس میں درخواست دہندگان کی آن لائن موجودگی اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا باقاعدہ جائزہ لینا بھی شامل ہوگا۔ یہ فیصلہ امریکی ویزا سسٹم کو مزید جامع اور شفاف بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔محکمۂ خارجہ کے مطابق 15 دسمبر سے خاص طور پر H-1B ویزا کیٹیگری کے تمام درخواست دہندگان، اور A-4 ویزا کلاس میں آنے والے ان کے اہلِ خانہ یا دیگر منحصر افراد کی سوشل میڈیا اور آن لائن ایکٹیویٹی کا بھی بغور معائنہ کیا جائے گا۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ دنیا بھر کے بدلتے حالات میں ویزا درخواست گزاروں کی مکمل جانچ وقت کا تقاضا ہے۔
امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مالی سال 2024 میں منظور ہونے والے H-1B ویزا ہولڈرز میں تقریباً 71 فیصد کا تعلق بھارت سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کا اثر بڑی تعداد میں بھارتی پیشہ ور افراد اور ان کے خاندانوں پر پڑ سکتا ہے۔امریکی محکمۂ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ جانچ تمام کیٹیگریز کے درخواست دہندگان پر لاگو ہوگی، جن میں F، M اور J اسٹوڈنٹ ویزا اور ایکسچینج وزیٹر پروگرام شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ضرورت پڑنے پر ویزا انٹرویو کی تاریخیں بھی تبدیل کی جائیں گی تاکہ پورے عمل کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جاسکے۔
بھارت میں قائم امریکی سفارت خانے نے بھی اس سلسلے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان تمام بھارتی شہریوں کی رہنمائی کرے گا جن کی اپائنٹمنٹ کی تاریخیں دوبارہ طے کی گئی ہیں۔ سفارت خانے نے ایک بیان میں عوام کو متنبہ کیا کہ اگر کسی درخواست گزار کو ای میل موصول ہو چکی ہے جس میں نئی تاریخ سے آگاہ کیا گیا ہے تو وہ پرانی تاریخ پر سفارت خانے یا قونصل خانے میں نہ پہنچے، کیونکہ وہاں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سفارت خانے نے مزید کہا کہ اس نئی پالیسی کا مقصد صرف سیکیورٹی اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے، جبکہ تمام درخواست گزاروں کو یقین دلایا گیا ہے کہ انہیں نئی اپائنٹمنٹ تاریخ پر مکمل معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام سے توقع ہے کہ ویزا کے پورے عمل میں احتیاط اور اعتماد میں اضافہ ہوگا، جس سے بین الاقوامی طلبہ، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور دیگر مسافروں کو مستقبل میں زیادہ واضح رہنمائی مل سکے گی۔





