یوکرین بحران پر زیلنسکی اور یورپی قیادت کی اہم مشاورت
زیلنسکی نے لندن میں یورپی رہنماؤں سے ملاقات کر کے نئے امن منصوبے پر مشاورت کی، جبکہ امریکہ کے ساتھ شیئرنگ کی تیاری جاری ہے۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے پیر کے روز لندن میں یورپ کی تین بڑی طاقتوں کے رہنماؤں برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرتزسے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں یوکرین اور امریکہ کی جانب سے تیار کیے گئے ایک نئے اور ترمیم شدہ امن منصوبے کے مسودے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔یورپی رہنماؤں نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کی جنگ ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور یہی وہ وقت ہے جب یوکرین کی معاونت بڑھاتے ہوئے روس پر دباؤ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اگر اجتماعی دباؤ مضبوط رکھا گیا تو جنگ کے خاتمے کی سمت کچھ مثبت پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے۔
مذاکرات کے دوران یورپی ممالک نے یہ بھی اعتراف کیا کہ یوکرین کی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے یوکرین پر روس کے ساتھ کسی فوری سمجھوتے کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث یورپی فریقوں کے لیے اپنی حکمت عملی مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ادھر صدر زیلنسکی نے ملاقات کے بعد بتایا کہ یوکرین اس نئے اور نظرثانی شدہ امن منصوبے کو منگل کے روز باضابطہ طور پر امریکی حکام کے ساتھ شیئر کرے گا۔ وہ فی الحال برسلز میں موجود ہیں جہاں ان کی نیٹو قیادت سے ملاقاتیں طے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی نمائندوں اور یوکرینی مذاکراتی ٹیم کے درمیان امریکی ریاست فلوریڈا میں تین روز تک جاری رہنے والی بات چیت میں یوکرین نے امن منصوبے میں متعدد نکات پر ترمیم کا مطالبہ کیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق امریکہ کی طرف سے پیش کیا گیا ابتدائی منصوبہ “زیادہ تر روس کے مفاد کے مطابق” نظر آ رہا تھا، جسے قابل قبول بنانے کے لیے کئی امور میں تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی۔یورپی رہنماؤں کی لندن میں ہونے والی یہ بیٹھک جنگ کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکہ، یورپ اور یوکرین کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو جائیں تو روس پر سفارتی دباؤ بڑھنے کے امکانات مزید روشن ہو جائیں گے۔





