پرینکاگاندھی نے حکومت پروندے ماترم بحث سے توجہ ہٹانے کاالزام لگایا
پرینکا گاندھی نے کہا حکومت وندے ماترم بحث کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا رہی ہے، تاریخی حقائق پیش کیے۔
روز اس وقت خاصی گرماگرمی دیکھنے میں آئی جب کانگریس کی رکنِ پارلیمان پرینکا گاندھی واڈرا نے حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی حکومت عوام کو درپیش حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی نیت سے وندے ماترم کے موضوع کو نمایاں کر رہی ہے۔ وندے ماترم کے 150 برس مکمل ہونے کی مناسبت سے ایوان میں خصوصی بحث کا اہتمام کیا گیا تھا۔بحث کے دوران پرینکا گاندھی نے کہا کہ وندے ماترم اس ملک کی زمین، ثقافت اور تاریخ میں گہری جڑیں رکھتا ہے، اور اس کی روح ہر ہندوستانی کے دل میں زندہ ہے۔ ان کے مطابق اس نغمے پر اختلاف پیدا کرنا یا اسے سیاسی رنگ دینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت بحث چاہتی ہے تو وہ تیار ہیں، مگر اس کا مقصد عوام کو اصل مسائل سے دور رکھنا نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے وزیراعظم کے خطاب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر میں جوش اور خطابت تو ہوتی ہے، لیکن وہ حقائق پیش کرنے میں اکثر کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ پرینکا نے کہا کہ عوام کے سامنے درست تاریخی حوالوں کو رکھنا بھی ایک ذمہ داری ہے، اور اگر وہ ایوان میں نئی ہیں، تو بھی وہ حقائق چھپنے نہیں دیں گی۔اس سلسلے میں انہوں نے 1937 میں سبرامنیم چندر بوس (نیٹاجی) اور جواہر لال نہرو کے درمیان تبادلۂ خط و کتابت کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے نہرو کے 20 اکتوبر 1937 کے خط کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا، لیکن اس سے تین دن پہلے بوس کی جانب سے لکھے گئے اہم خط کو نظرانداز کر دیا گیا۔ پرینکا کے مطابق بوس نے اپنے خط میں نہرو کو لکھا تھا کہ وہ کلکتہ میں وندے ماترم کے معاملے پر تبادلۂ خیال کریں، اور اگر مناسب سمجھیں تو اسے کانگریس کی ورکنگ کمیٹی میں اٹھائیں۔ انہوں نے ٹیگور سے بھی کہا تھا کہ وہ اپنی رائے نہرو کے سامنے رکھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نہرو نے اپنے جواب میں صاف لکھا کہ وندے ماترم کی مخالفت کا بڑا حصہ اُن لوگوں کا پیدا کردہ ہے جو فرقہ وارانہ سوچ رکھتے ہیں۔ نہرو نے یقین دلایا کہ کانگریس ایسی پالیسی نہیں اپنا سکتی جو کسی بھی طبقے میں غلط فہمیاں پیدا کرے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ کلکتہ پہنچ کر ٹیگور اور دیگر رہنماؤں سے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔بعد ازاں ٹیگور نے خط میں کہا کہ وندے ماترم کے وہی دو بند ہمیشہ تحریکِ آزادی کا حصہ رہے جنہیں گاتے ہوئے بے شمار مجاہدین نے جانیں قربان کیں، اس لیے انہیں ہی برقرار رکھنا چاہئے۔ ان کے بقول بعد میں شامل بندوں میں ایسے مضامین تھے جنہیں اُس دور میں فرقہ وارانہ نظر سے دیکھا جا سکتا تھا۔بالآخر 28 اکتوبر 1937 کو کانگریس ورکنگ کمیٹی نے انہی دو بندوں کو سرکاری طور پر قومی نغمہ تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی۔ پرینکا گاندھی کے مطابق اس تاریخی تسلسل کو توڑ کر جزوی حقائق بیان کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔





