بینن میں فوجی بغاوت، صدر معزول اور عبوری حکومت قائم
بینن میں فوجی گروہ نے صدر طالن کو ہٹا کر اقتدار سنبھالا، آئین معطل، سرحدیں بند، مگر حکومت حالات قابو میں ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
مغربی افریقی ملک بینن میں اس وقت شدید سیاسی ہلچل پیدا ہو گئی ہے، جہاں فوج کے ایک گروہ نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اچانک اعلان کیا کہ انہوں نے صدر پیٹریس طالن کو برطرف کرتے ہوئے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے۔ اس گروہ کا کہنا ہے کہ نئی صورتِ حال میں لیفٹیننٹ کرنل تیگری پاسکل ایک فوجی عبوری کونسل کی سربراہی کریں گے جو ملک کا انتظام سنبھالے گی۔ فوجی اہلکاروں کے مطابق موجودہ حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کے باعث یہ قدم اٹھانا ضروری سمجھا گیا۔دارالحکومت کوٹونو سے ایسی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ صدر کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ فرانسیسی سفارتخانے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے واقعات کی رپورٹیں ملیں اور صورتحال غیر یقینی بنی رہی۔ بغاوت کے اعلان کے ساتھ ہی فوجی گروہ نے آئین معطل کرنے کے ساتھ ملک کی زمینی سرحدوں اور فضائی حدود کو بھی بند کر دیا ہے۔
دوسری جانب صدر کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر طالن بخیر و عافیت ہیں اور جن فوجی اہلکاروں نے ٹی وی اسٹیشن پر قبضہ کیا ہے، انہیں مسلح افواج کی مجموعی حمایت حاصل نہیں ہے۔ وزیرِ خارجہ شیگن اجادی باکاری نے عالمی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اب بھی بااختیار ہے، صورتحال قابو میں ہے اور فوج کی اکثریت ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدارتی دفتر کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ بغاوت کرنے والے صرف ایک محدود گروہ ہیں، جو ٹی وی چینل پر قابض ضرور ہیں مگر دارالحکومت سمیت پورا ملک محفوظ اور پُرامن ہے۔ تاہم صدر طالن اس وقت کہاں موجود ہیں، اس متعلق تاحال معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔کوٹونو کی متعدد سڑکوں پر فوج کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور کئی اہم راستے بند ہیں۔ بینن کو خطے کی نسبتاً مستحکم جمہوریتوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے، تاہم معاشی طور پر یہ افریقہ کے غریب ترین ممالک میں شامل ہے اور کپاس کی پیداوار کی وجہ سے عالمی منڈی میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔فرانس اور روس کے سفارتخانوں نے اپنے اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ امریکی سفارتخانے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صدارتی کمپاؤنڈ کے اطراف جانے سے گریز کریں کیونکہ صورتحال غیر واضح ہے۔
67 سالہ صدر طالن، جو اپنے کاروباری پس منظر کی وجہ سے “کنگ آف کاٹن” کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، 2016 میں صدر منتخب ہوئے تھے۔ وہ اگلے سال اپنی دوسری مدت پوری کر کے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں اور تیسری مرتبہ انتخاب لڑنے کے خواہشمند نہیں۔ انہوں نے اپنے جانشین کے طور پر موجودہ وزیرِ خزانہ روموالڈ واداگنی کو نامزد کیا ہے۔اگرچہ صدر طالن کو معاشی اصلاحات پر سراہا گیا ہے مگر ان کی حکومت پر سیاسی مخالفین کو محدود کرنے اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے الزام بھی لگتے رہے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں مرکزی اپوزیشن امیدوار کو مبینہ طور پر تکنیکی وجوہات کی بنا پر الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا تھا۔یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف ایک ہفتہ قبل پڑوسی ملک گنی بساؤ میں بھی صدر کو معذول کیا گیا تھا۔ گزشتہ چند برسوں میں مغربی افریقہ کے کئی ممالک جیسے برکینا فاسو، مالی، نائجر اور گنی فوجی بغاوتوں کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، جس سے پورے خطے کی سلامتی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔





