اویسی کا 6 دسمبر بیان، بابری مسجد انصاف پر سوالات
اویسی نے 6 دسمبر بابری مسجد انہدام اور عدالتی فیصلے پر سوال اٹھائے، حکومت کی اپیل نہ کرنے پر تنقید کی۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اویسی نے 6 دسمبر کے موقع پر ایک بار پھر بابری مسجد کے انہدام اور اس سے وابستہ عدالتی فیصلے پر شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ہفتے کے روز اپنے خطاب میں انہوں نے 1992 کی اس تاریخ کو یاد دلایا، جب بابری مسجد شہید کی گئی تھی، اور اس واقعے کے قانونی پہلوؤں پر اہم سوالات اٹھائے۔اویسی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ 6 دسمبر ملک کی تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کے حالات سے پوری دنیا واقف ہے، جب ہزاروں افراد نے وہاں جمع ہو کر مسجد کو منہدم کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس موقع پر اعلیٰ سطح کے رہنماؤں کی موجودگی بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق اس صورتِ حال کے باوجود بعد میں چلنے والے مقدمے میں تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا، جس نے کئی طرح کے سوالات کو جنم دیا۔
انہوں نے کہا کہ جب عدالتی فیصلے میں یہ قرار دیا گیا کہ شواہد کی بنیاد پر کسی شخص کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسجد کو عملی طور پر کس نے گرایا تھا؟ اویسی نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ واقعہ پولیس کی موجودگی میں پیش آیا، مگر پھر بھی کسی کو قصوروار نہیں سمجھا گیا۔AIMIM سربراہ نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ مرکزی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا انتخاب نہیں کیا۔ ان کے مطابق اگر واقعی انصاف کو مقدم رکھا جاتا تو ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے تھا، تاکہ قانونی عمل مکمل طور پر شفاف اور غیر جانب دار انداز میں آگے بڑھتا۔
اویسی نے مزید کہا کہ ملک میں ایسا ماحول بن چکا ہے جہاں انصاف کی بات تو کی جاتی ہے، لیکن عملی طور پر کئی معاملات میں انصاف ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے مطابق ہزاروں افراد کے سامنے ایک تاریخی عمارت کو منہدم کر دیا گیا، مگر عدالت نے اپنے فیصلے میں کسی ایک شخص کو بھی مجرم قرار دینے سے انکار کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال آج بھی قائم ہے کہ آخر اس سانحے کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے، اور کیا اس واقعے سے وابستہ قانونی لڑائی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے یا اس پر دوبارہ غور ہونا چاہیے۔ اویسی کے مطابق یہ مسئلہ صرف ایک مقدمہ نہیں بلکہ انصاف اور قانون کی عملداری کا امتحان بھی ہے۔





