روس، امریکا اور یوکرین جنگ مذاکرات میں نئی پیش رفت
روس امریکہ مذاکرات میں جزوی پیش رفت ہوئی مگر متنازع علاقے حل نہ ہوئے اور جنگ خاتمے توقعات کمزور رہیں۔
یوکرین جنگ کے معاملے پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ایک اہم اور طویل ملاقات ہوئی، جس نے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر سفارتی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے۔ یہ ملاقات تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی اور اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کُشنر بھی شریک تھے۔ روسی دارالحکومت میں ہونے والی اس ملاقات نے جنگ کے مستقبل سے متعلق کئی نئے سوالات اور توقعات کو جنم دیا ہے۔مذاکرات میں شریک روسی صدر کے خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے گفتگو کو “مفید” اور “رچناتمک” قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی ایسے کئی نکات موجود ہیں جن پر کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ اوشاکوف کے مطابق سب سے بڑا اختلاف یوکرین کے ان علاقوں پر ہے جنہیں کیف حکومت دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان علاقوں کی حیثیت سے متعلق کسی قسم کی پیش رفت یا اتفاقِ رائے سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب پوتن نے چند روز قبل ہی یورپی ممالک کی اُن شرائط کو ناقابلِ قبول قرار دیا تھا جو وہ جنگ بندی کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کسی وسیع جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن اگر یورپ یا نیٹو ممالک طاقت آزمائی کا فیصلہ کریں تو روس اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ روسی مؤقف کے مطابق موجودہ حالات میں ماسکو خود کو جنگ کے میدان میں بہتر پوزیشن میں دیکھتا ہے اور اسی اعتماد کے باعث پوتن فوری سمجھوتے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امن مذاکرات کے مسودے میں کچھ نکات ابھی تشنہ ہیں، مگر وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کا امکان اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کی کوششیں، یوکرینی عوام کی مزاحمت اور میدانِ جنگ کی بدلتی صورتحال ایک ایسے موقع کے قریب لا رہی ہیں جہاں بات چیت حقیقی امن کا راستہ کھول سکتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ ملاقات اگرچہ کسی بڑے معاہدے پر منتج نہیں ہوئی، لیکن اس نے اس بات کا عندیہ ضرور دیا ہے کہ سفارت کاری کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔ دنیا کی نگاہیں اب ان آنے والے اجلاسوں پر مرکوز ہیں جو یہ طے کریں گے کہ آیا یہ جنگ اپنے انجام کے قریب ہے یا ابھی مزید طول پکڑے گی۔





