کرناٹک قیادت تنازع پر سدھارامیا کا ہائی کمان پر منحصر مؤقف
کرناٹک میں قیادت کی بحث پر سدھارامیا نے واضح کیا کہ شیوکمار تب ہی وزیراعلیٰ بنیں گے جب کانگریس ہائی کمان فیصلہ کرے گی۔
کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدھارامیا نے ریاست میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق جاری سیاسی چہ مگوئیوں پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار صرف اُس وقت وزیراعلیٰ بنیں گے جب کانگریس ہائی کمان اس حوالے سے باضابطہ فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے یہ بات ایک سوال کے جواب میں کہی جس میں پوچھا گیا تھا کہ شیوکمار کب اقتدار سنبھالیں گے۔یہ گفتگو شیوکمار کی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات چیت کے دوران ہوئی، جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ کو ناشتہ پر مدعو کیا تھا۔ اس سے قبل سدھارامیا نے بھی مرکزی قیادت کی ہدایت پر گزشتہ ہفتے شیوکمار کو ناشتہ پر بلایا تھا تاکہ اپوزیشن کی جانب سے پھیلائی جانے والی سیاسی عدم استحکام کی باتوں کو ختم کیا جا سکے۔
ادھر قیادت کی تبدیلی کا مسئلہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوگیا جب کانگریس حکومت کے ڈھائی سال مکمل ہونے والے تھے۔ شیوکمار کا دعویٰ ہے کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات کے فوراً بعد چند سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں یہ طے پایا تھا کہ سدھارامیا نصف مدت کے بعد وزارتِ اعلیٰ ان کے حوالے کریں گے۔کانگریس کے لیے مشکل یہ ہے کہ سدھارامیا پورے کرناٹک میں مضبوط عوامی حمایت رکھنے والے رہنما ہیں، جبکہ شیوکمار پارٹی کے “وسائل سے بھرپور” اور تنظیمی طور پر انتہائی مؤثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں لیڈر کانگریس اور گاندھی خاندان کے وفادار مانے جاتے ہیں۔
کابینہ میں ردوبدل کے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر ہائی کمان انہیں دہلی بلاتی ہے تو وہ ضرور جائیں گے اور فیصلے کی باقاعدہ ذمہ داری راہل گاندھی پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی قیادت کا جو بھی حکم ہوگا، اس پر مکمل عمل کیا جائے گا۔سدھارامیا نے یہ بھی کہا کہ وہ اور شیوکمار ایک ہی پارٹی کے ساتھی ہونے کے ساتھ بھائیوں کی طرح ہیں اور 2028 کے انتخابات تک ایک ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ شیوکمار نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا۔دلچسپ طور پر انہوں نے ایک دوسرے کے گھروں میں ہونے والی مہمان نوازی کا ذکر بھی کیا۔ سدھارامیا نے بتایا کہ شیوکمار کے گھر انہوں نے نان ویج ناشتہ کیا، حالانکہ شیوکمار خود سبزی خور ہیں۔ دوسری جانب اپنے گھر پر انہوں نے شیوکمار کو سبزی خور کھانا پیش کیا، جبکہ وہ خود نان ویج کھاتے ہیں۔ شیوکمار کے مطابق پیش کی گئی چکن ڈش “میسور اسٹائل” میں تیار کی گئی تھی، جس پر سدھارامیا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ شیوکمار کی اہلیہ کا تعلق میسور سے ہےجو خود ان کا آبائی ضلع بھی ہے۔





