سری لنکا سیلاب، طوفان سے تباہی اور اموات میں اضافہ
سری لنکا میں شدید بارشوں، سیلاب اور طوفان سے 193 ہلاک، ہزاروں بے گھر، ڈھانچہ تباہ، ہنگامی حالت نافذ۔
جنوبی ایشیا کا جزیرہ نما ملک سری لنکا اس وقت شدید بارشوں اور تباہ کن سیلابی صورتحال سے دوچار ہے۔ مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں کے بعد مٹی کے تودے گرنے اور نشیبی علاقوں کے ڈوب جانے کے باعث کم از کم 193 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ملک کے وسطی حصے، خصوصاً کینڈی اور بادولا اضلاع وہ مقامات ہیں جہاں سب سے زیادہ جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ کئی دیہات ایسے ہیں جہاں جانے والی سڑکیں بہہ گئیں یا لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہوگئیں، جس کے باعث ریسکیو ٹیموں کی رسائی بھی مشکل بنی ہوئی ہے۔حکومتی اداروں کے مطابق یہ بحران گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں سب سے شدید موسمی آفت سمجھا جا رہا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر نے بتایا کہ دو سو سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ہیں جبکہ بیس ہزار سے زائد گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں سے کم از کم ایک لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر قائم عارضی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ محدود سہولیات کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
شدید بارشوں کا اثر ملک کے بنیادی ڈھانچے پر بھی پڑا ہے۔ بجلی اور پانی کی فراہمی تقریباً ایک تہائی علاقوں میں معطل ہے۔ بجلی کے کھمبے، پل اور سڑکیں تباہ ہونے کے باعث مرمت کا کام وقت طلب ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ چکراتی طوفان “دِتوواہ” کی شدت کے پیشِ نظر ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ کئی مقامات پر کیلانی دریا کا پانی خطرناک حد تک اوپر جا رہا ہے، جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے لوگوں کو فوری طور پر اپنے گھروں سے نکلنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
سری لنکا کے رکنِ پارلیمان اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ ہرشا ڈی سلوا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملک کے تقریباً ہر ضلعے میں طوفان نے گہری تباہی مچائی ہے۔ اُن کے مطابق اگلے چند ماہ میں بڑے پیمانے پر مرمت اور تعمیرِ نو کا مرحلہ شروع کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پہلی ترجیح متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا اور انہیں خوراک، پانی اور طبی امداد فراہم کرنا ہے، اسی لیے فی الحال نقصان کے درست اندازے تک پہنچنا ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دنوں میں سری لنکا کو نہ صرف بھارت بلکہ دیگر دوست ممالک کے تعاون کی بھی سخت ضرورت ہوگی۔ سڑکیں، پل اور توانائی کا نظام دوبارہ قائم کرنے کے لیے بھاری سرمایہ درکار ہے۔ ہرشا ڈی سلوا نے نشاندہی کی کہ ملک کی کمزور معاشی صورتحال کے پیشِ نظر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے پروگراموں میں بھی تبدیلیاں لانا پڑ سکتی ہیں تاکہ قومی معیشت کو دوبارہ استحکام کی طرف لایا جا سکے۔





