سُماترا میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ سے اموات چار سو بیالیس
سُماترا میں شدید بارشوں سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ؛ 442 ہلاک، رابطہ نظام متاثر، خطے میں مزید اموات کی خبریں۔
انڈونیشیا کے جزیرۂ سُماترا میں حالیہ دنوں ہونے والی شدید بارشوں نے صورتحال کو نہایت سنگین بنا دیا ہے۔ لگاتار ہونے والی بارش نے متعدد علاقوں میں تباہ کن سیلاب اور خطرناک لینڈ سلائیڈ (landslides) کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 442 ہو گئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق اتوار کے روز یہ تعداد تین سو سے تجاوز کر گئی تھی، مگر ملبہ ہٹانے اور مزید لاشیں برآمد ہونے کے بعد اموات کا یہ ہولناک نیا اعداد و شمار سامنے آیا ہے۔سُماترا کے کئی اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم مسلسل بارش اور زمین کھسکنے کے باعث ریسکیو ٹیموں کو جگہ جگہ مشکلات کا سامنا ہے۔ متعدد سڑکیں پانی میں بہہ گئی ہیں یا ان پر بھاری پتھر آگرے ہیں جس کے باعث گاڑیاں وہاں تک نہیں پہنچ پا رہیں۔ امدادی رضاکار پیدل طویل فاصلہ طے کرکے متاثرہ بستیوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ضروری سامان بھی پہنچایا جا رہا ہے۔
ادھر بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ کئی قصبوں میں بجلی بحال ہو چکی ہے مگر بعض علاقوں میں صرف جزوی طور پر ہی سروس واپس آئی ہے، جس کے باعث رابطے اور معلومات کے تبادلے میں دشواری کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر بجلی کے کھمبے گر چکے ہیں اور بارش رکنے کے بعد ہی مرمت کا کام پوری رفتار سے کیا جا سکے گا۔ماہرین موسمیات کے مطابق اس سال جنوب مشرقی ایشیا میں مون سون معمول سے زیادہ طاقتور ثابت ہو رہا ہے۔ انڈونیشیا کے ساتھ ساتھ ملائیشیا، سری لنکا اور تھائی لینڈ بھی شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ تھائی لینڈ میں اب تک 170 ہلاکتیں رپورٹ کی جا چکی ہیں، جبکہ ملائیشیا کی ریاست پَرلِس میں بھی دو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ متعدد علاقوں میں ہزاروں لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر عارضی پناہ گاہوں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
انڈونیشی حکومت نے اس سیلاب کو تازہ تاریخ کی بدترین قدرتی آفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحالی اور تعمیرِ نو کا عمل طویل وقت لے سکتا ہے۔ تاہم حکام اور رضا کار پوری کوشش کر رہے ہیں کہ مزید جانی نقصان نہ ہو اور متاثرہ آبادی کو زیادہ سے زیادہ امداد فراہم کی جا سکے۔





