راہل گاندھی نے دہلی کی آلودہ ہوا پر پارلیمنٹ میں بحث کی درخواست دی
راہل گاندھی نے دہلی ہوا آلودگی پر پارلیمنٹ میں بحث کی درخواست دی، بچوں کی صحت خطرے میں، حکومت خاموش۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے دہلی میں بڑھتی ہوئی ہوا کی آلودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ اس صحت کے سنگین خطرے کے باوجود وہ خاموش کیوں ہیں۔راہل گاندھی نے اس سلسلے میں متاثرہ والدین، خاص طور پر ماؤں، سے ملاقاتیں کیں اور اس ملاقات کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ والدین مسلسل یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ان کے بچے زہریلی ہوا میں سانس لے کر نشوونما پا رہے ہیں۔ ماؤں نے بتایا کہ وہ نہ صرف تھک چکی ہیں بلکہ ڈری ہوئی اور غصے میں بھی ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا، “مودی جی، بھارت کے بچے ہمارے سامنے گھٹتے ہوئے سانس لے رہے ہیں۔ آپ کس طرح خاموش رہ سکتے ہیں؟ آپ کی حکومت نے اس مسئلے پر نہ کوئی ایکشن لیا، نہ کوئی منصوبہ بنایا، نہ ہی جوابدہی کی۔” انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو اس مسئلے پر فوری طور پر پارلیمنٹ میں مکمل اور شفاف بحث کی ضرورت ہے اور اس صحت کے سنگین خطرے سے نمٹنے کے لیے سخت، قابل عمل ایکشن پلان بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا، “ہمارے بچوں کو بہکانے والی باتوں یا توجہ ہٹانے والی پالیسیاں نہیں، بلکہ صاف اور صحت مند ہوا کی ضرورت ہے۔” دہلی میں ہوا کی آلودگی کے سبب شہریوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے، اور خصوصاً بچے، بزرگ اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد شدید خطرے میں ہیں۔
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق دہلی کے کئی علاقوں میں جمعہ کو ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 350 سے تجاوز کر گیا، جو انتہائی غیر صحت مند سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل مدت تک زہریلی ہوا میں رہنے سے سانس کی بیماری، دل کی بیماریاں اور بچوں کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری، سخت اور قابل عمل اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ شہری، خصوصاً بچے، محفوظ اور صاف ہوا میں سانس لے سکیں۔ انہوں نے اس مسئلے کو ایک صحت کا ہنگامی مسئلہ قرار دیا اور پارلیمنٹ میں اس پر شفاف بحث کی ضرورت پر زور دیا۔





