خبرنامہ

اینٹی کرپشن تفتیش نے زیلینسکی حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر دیا

یوکرین میں ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، کیونکہ ملک کی دو اہم انسدادِ بدعنوانی ایجنسیاں صدر وولودیمیر زیلینسکی کے بااعتماد ساتھی اور ان کے چیف آف اسٹاف اندری یرماک کے ایک اپارٹمنٹ کی تلاشی لینے میں مصروف ہیں۔ یہ کارروائی ملک میں اعلیٰ سطح پر بدعنوانی کے حالیہ الزامات کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے حکومت کو سخت دباؤ میں ڈال دیا ہے۔انسدادِ بدعنوانی بیورو نابو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں باقاعدہ اجازت ملنے کے بعد تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ بیورو کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر زیادہ تفصیلات ظاہر کرنا ممکن نہیں، لیکن وہ آئندہ دنوں میں مزید معلومات منظرِ عام پر لائیں گے۔ تفتیش کاروں کا فوکس اس شبہے پر ہے کہ صدر کے قریبی حلقے میں شامل کچھ اعلیٰ شخصیات ممکنہ طور پر ایسے مالی معاملات میں ملوث رہی ہوں جو ملکی قوانین کے خلاف ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یوکرین میں حالیہ مہینوں کے دوران ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں جن کے مطابق حکومتی سطح پر تقریباً 10 کروڑ ڈالر سے متعلق بدعنوانی کے سنگین الزامات گردش کر رہے ہیں۔ یہ الزامات اگرچہ صدر زیلینسکی یا ان کے چیف آف اسٹاف یرماک کو براہِ راست نشانہ نہیں بناتے، تاہم ان دونوں کا تعلق حکومت کے اعلیٰ ترین دائرے سے ہونے کی وجہ سے معاملے کی نزاکت مزید بڑھ گئی ہے۔ یرماک کے مخالفین اس صورتحال کو ان کے خلاف ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اندری یرماک، جو برسوں سے صدر زیلینسکی کے انتہائی قریبی ساتھی اور مشیر سمجھے جاتے ہیں، روس کے خلاف جاری جنگ میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف عسکری حکمتِ عملی میں حصہ لیا بلکہ عالمی سطح پر یوکرین کے مؤقف کے لیے سفارتی محاذ پر بھی سرگرم رہے۔ امریکہ کے ساتھ ہونے والی امن مذاکرات میں بھی وہ یوکرین کے مرکزی نمائندے کی حیثیت سے شریک رہے ہیں، جس کے باعث ان کی پوزیشن نہایت اہم مانی جاتی ہے۔تاہم بدعنوانی سے متعلق بڑھتی ہوئی تحقیقات نے انہیں تنقید کے نشانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اپوزیشن رہنما اور کئی تبصرہ نگار زور دے رہے ہیں کہ جب تک معاملہ صاف نہیں ہو جاتا، یرماک کو اپنے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات نے کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیا تو یرماک کی سیاسی حیثیت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، اور ممکن ہے کہ انہیں اپنا اہم سرکاری منصب چھوڑنا پڑے۔فی الحال حکومتی سطح پر نہ تو یرماک اور نہ ہی صدر زیلینسکی نے کسی قسم کی بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزامات قبول کیے ہیں۔ ان کے قریبی حلقے کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں یوکرین کے اداروں کی آزادانہ عمل داری کا حصہ ہیں، اور حکومت چاہتی ہے کہ ریاستی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے ہر اقدام کی حمایت کی جائے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر