ٹرمپ امن منصوبہ: اتحادیوں کی تنقید، یوکرین جنگ پر نئی کھلبلی
ٹرمپ کے امن منصوبے پر اتحادیوں کی تشویش بڑھی، یوکرین نے تحفظات دکھائے، روس نے اسے بنیاد کہا، جنگ کے مستقبل پر غیر یقینی گہری ہوئی۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے تازہ امن منصوبے نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب یوکرین کے قریبی اتحادی ممالک اس تجویز کے مختلف نکات پر واضح تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔ ہفتے کے روز یورپ کے کئی ممالک، کینیڈا اور جاپان کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کہا کہ مجوزہ منصوبے میں پائیدار اور منصفانہ امن کی کوشش ضرور نظر آتی ہے، تاہم اسے قابلِ قبول بنانے کے لیے مزید کام اور مشاورت کی ضرورت ہوگی۔ ان ممالک نے خصوصاً سرحدی تبدیلیوں اور یوکرین کی فوج کو کمزور کرنے کے خدشے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی شرائط خطے میں عدم توازن پیدا کر سکتی ہیں۔
اسی پس منظر میں اتوار کے روز برطانیہ، فرانس، جرمنی، امریکہ اور یوکرین کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام کی جنیوا میں ملاقات طے ہے، جہاں اس مجوزہ امن منصوبے پر مزید گفتگو اور سفارتی راستے تلاش کرنے کی کوشش ہوگی۔ اس ملاقات کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس دوران جنگ کے مستقبل، امداد اور علاقائی سلامتی سے متعلق کئی اہم فیصلے سامنے آسکتے ہیں۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی اس منصوبے پر پہلے ہی سخت ردعمل دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے کہ یا تو یوکرین کو اپنی قومی وقار سے پیچھے ہٹنا ہوگا یا پھر امریکہ کی حمایت برقرار رکھنی ہوگی۔ زیلینسکی کے مطابق اس منصوبے کے کئی نکات روس کے مؤقف کے زیادہ قریب دکھائی دیتے ہیں، جس سے یوکرین کی سلامتی کو شدید خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس منصوبے کو مستقبل میں کسی ممکنہ سمجھوتے کی بنیاد قرار دیتے ہوئے مثبت اشارہ دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس تجویز میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے کچھ بنیادی نکات موجود ہیں۔ٹرمپ نے یوکرین کو یہ 28 نکاتی تجویز 27 نومبر تک قبول کرنے کی مہلت دی ہے۔ ہفتے کے روز جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہی ان کی آخری تجویز ہے تو انہوں نے واضح کیا کہ یہ حتمی مسودہ نہیں، بلکہ بات چیت کا ایک مرحلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس جنگ کو ختم کرنا ہوگا، اور اسی مقصد کے لیے وہ مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ یوکرین جنگ پر عالمی ہم آہنگی میں دراڑیں پڑ رہی ہیں اور امن منصوبے کے حوالے سے ممالک کے مؤقف ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔ ایسے میں آئندہ چند ہفتے یورپی سلامتی اور روس-یوکرین کشیدگی کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔





